.

یمن:حوثیوں نے نو منتخب وزیراعظم بن مبارک کی تقرری مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حکومت کے خلاف پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں ملوث اہل تشیع مسلک کے حوثی قبیلے نے صدر عبد ربہ منصور ھادی کی جانب سے نو منتخب وزیراعظم احمد عوض بن مبارک کی تقرری بھی مسترد کر دی گئی ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ احمد بن مبارک کی بہ طور وزیراعظم تقرری سے قوم کے مطالبات پورے نہیں‌ ہوتے ہیں اور نہ ہی بن مبارک ان کے مطالبات پورے کر سکتے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے نامہ نگار کے مراسلے کے مطابق منگل کو صدر عبد ربہ منصورھادی نے احمد عوض بن مبارک کو نئی حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی تھی۔ خیال رہے کہ نئے وزیراعظم کی تقرری کے بارے میں حال ہی میں حوثیوں اور دیگر سیاسی جماعتوں نے متفقہ فیصلہ دیا تھا۔ اس فیصلے کے باوجود حوثیوں نے نئے وزیراعظم کی تقرری مسترد کر دی ہے۔

یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی"سبا" کی رپورٹ کے مطابق چند روز پیشتر صنعاء ایوان صدر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں نئے وزیراعظم کی تقرری پرغور کیا گیا۔ اس موقع پر حوثیوں کے مندوبین بھی موجود تھے اور انہوں‌ نے بھی اجلاس میں احمد بن مبارک کو وزیراعظم مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ صدر کے انتخاب پر ملک کی کم وبیش تمام سیاسی جماعتوں اور قبائل نے بھی اتفاق کیا ہے مگر حوثی شدت پسند حکومت سے معاہدے کے بعد اب مکر گئی ہے۔

صدر کی جانب سے بن مبارک کی تقرری کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد حوثیوں کی سیاسی جماعت "انصاراللہ" کے دفتر سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ وہ صدر کے اس فیصلے کو تسلیم نہیں‌ کرتے ہیں کیونکہ بن مبارک کی تقرری سے قوم کے مطالبات پورے نہیں ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ بن مبارک ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت ہیں۔ انہوں نے عراق کی ایک یونیورسٹی سے بزنس ایڈ منسٹریشن کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لے رکھی ہے۔ اس سے قبل وہ ایوان صدر میں عالمی امور کے شعبے کے سربراہ سمیت کئی دوسرے عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔