.

عراق: داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں خطرناک ہتھیاروں کا خوف

ایسے ہتھیار فوری طور پر تباہ کر دیے گئے تھے: پینٹاگان ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حالیہ دنوں میں سانے آنے والی رپورٹس میں میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکومت نے 2003 میں عراق کیمیائی ہتھیاروں کو سامنے لانے والے اپنے ان فوجیوں کو کسی حد تک چھپانے کی کوشش کی تھی۔ اسی انکشاف کو امریکا نے عراق کے خلاف جنگ کا جواز بتایا تھا۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ خطرہ ہے کہ انسانی تباہی کے یہ ہتھیار انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔

ان رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ ہتھیار عراق کے ان علاقوں میں ذخیرہ کیے گئے تھے جو اب داعش کے زیر قبضہ ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی تازہ رپورٹ کے مطابق پانچ ہزار خطرناک جنگی ہتھیار سامنے لائے گئے تھے۔ یہ رپورٹ انٹیلیجنس سے متعلقہ ریکارڈ اور سابقہ فوجیوں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ موسم گرما کے مطابق عراقی حکومت نے کہا تھا کہ ایسے مداخلت کاروں کو ان ذخائر کی نگرانی کے لیے لگائے گئے کیمروں کے بند ہونے سے پہلے بعض آلات چوری کرتے دیکھے گئے ہیں

اس واقعے کا ذکر داعش کے زیر قبضہ اس علاقے کے حوالے سے کیا گیا تھا جس کی حفاظت کے لیے گارڈز نہیں ہیں اور جہاں مبینہ طور کیمیائی ہتھیار رکھے گئے ہیں۔

اس بارے میں پینٹا گان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ہتھیاروں کو سرعت کے ساتھ تباہ کر دیا گیا تھا۔ یہ فوری کارروائی اس لیے ممکن بنائی گئی تھی کہ ان ہتھیاروں کو عراقی شہریوں کے خلاف استعمال نہ کیا جا سکے۔

دریں اثناء برطانوی فوج کے کیمیائی اور جوہری ہتھیاروں سے ڈیل کرنے والے شعبے کے ذمہ دار شعبے کے ایک سابق کرنل نے خبردار کیا ہے کہ داعش کے عسکریت پسند امکانی طور پر ''ڈرٹی بمب'' بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔''

ان کا مزید کہنا تھا '' داعش کے پاس اس طرح کی صلاحیت کا ہونا عراق میں اتحادی فورسز کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ مذکورہ مواد زیادہ محفوظ نہیں ہے۔''

دوسری جانب نیویارک ٹائمز کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ امریکی حکام ان جگہوں پر کسی براہ راست خطرہ بننے کی سطح تک پہنچے کی مکمل تصدیق نہیں کرتے البتہ ایسے ایجنٹ ہو سکتے ہیں جن سے کوئی خطرہ آمیزہ تیار کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق متعلقہ امریکی فوجیوں کو کہا گیا تھا عراق سے ملنے والے ان خطرناک ہتھیاروں اور ان کے اجزاء کے بارے میں خاموش رہیں یا ابہام پیدا کرنے والی اطلاعات سامنے لائیں۔ تاہم امریکا میں باضابطہ اور سرکاری طور پر اس بارے میں سب چیزیں ایک سربستہ راز ہیں۔

دوسری طرف بعض ناراض امریکی فوجی ایسی اطلاعات سامنے لاتے رہتے ہیں۔ یہ فوجی عام طور پر حکومت کی طرف سے موزوں توجہ نہ ملنے پر ناراض ہوتے ہیں، جبکہ پینٹاگان کے ترجمان نے اس تاثر کی نفی کی ہے۔ پینٹا گان کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نے اس بارے میں بتا چکے ہیں کہ 2004 سے 2011 کے درمیان 20 امریکی فوجیوں ان خطرناک ہتھیاروں کی اطلاع دی تھی۔''