.

عراقی کردستان کی 'فوج' کوبانی بھیجنے کی منظوری مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے نیم خود مختار صوبہ کردستان کی پارلیمنٹ نے شام میں دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے زیر تسلط کرد اکثریتی علاقے کوبانی [عین العرب] میں کرد آبادی کے دفاع کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے کوبانی کے دفاع کے لیے فوج بھیجنے کی منظوری دی تھی۔

بعد ازاں پارلیمنٹ سے منظوری کے لیے یہ تجویز ایوان میں بھی پیش کی گئی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ گذشتہ روز صدر مسعود بارزانی نے پارلیمنٹ کو ایک مکتوب ارسال کیا تھا جس میں ایوان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ شام کے علاقے کوبانی میں کرد آبادی کو داعش کے جنگجوئوں سے بچانے کے لیے وہاں فوج بھجوانے کی اجازت دے۔

خیال رہے کہ عراق کا حصہ ہونے کے باوجود کردستان کی حکومت بہت سے اہم فیصلے کرنے میں خود مختار ہے اور بغداد حکومت کا ان میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ فیصلہ سازی میں کردستانی صدر کو تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں تاہم صدر اپنے کسی بھی فیصلے کے دفاع کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری کو ضروری سمجھتا ہے۔

رواں ہفتے صدر مسعود بارزانی نے البیش المرکہ فورسز کو کوبانی میں بھجوانے کی منظوری دی تھی اور ترکی نے کرد فوجیوں کی شام میں داخلے کے لیے اپنی سر زمین کے استعمال کی اجازت بھی دے دی ہے۔

گذشتہ روز ترکی نے کہا تھا کہ فی الحال عراقی کردستان کے سیکیورٹی اہلکار شام میں داخل نہیں ہوئے ہیں تاہم انقرہ، کوبانی میں داعش اور دیگر عسکریت پسندوں سے لڑائی کے لیے کرد البیش المرکہ کو سرحد پار جانے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے تیار ہے۔