داعش کے مظالم کی کہانی،یزیدی خاتون کی زبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

عراق کے شمالی علاقے میں سخت گیر گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں کے خلاف یزیدی اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بھی ہتھیار اٹھا لیے ہیں اور وہ کرد فورسز کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف لڑائی میں داد شجاعت دے رہی ہیں۔

انھی میں ایک جنگجو خاتون کانام روبجان ہے۔وہ شمالی عراق کے علاقے شنجال سے تعلق رکھتی ہے۔اس کے گاؤں پر داعش کے جنگجوؤں نے اگست میں قبضہ کرلیا تھا۔انھوں نے مقامی آبادی کو وہاں سے ماربھگایا تھا اور بہت سی خواتین اور بچوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

داعش کی شنجال پر قبضے کی کارروائی کے دوران روبجان کا پورا خاندان مارا گیا تھا۔اس نے کردصحافی خضرفاطمی کے ساتھ ایک ویڈیو انٹرویو میں کہا ہے کہ ''میں انھیں (داعش کو) کبھی معاف نہیں کروں گی ،میں نے خود سے وعدہ کیا ہے کہ میں مرنے سے قبل شنجال ضرور جاؤں گی''۔

روبجان نے بتایا ہے کہ وہ داعش کی یورش کے وقت جان بچا کر شمالی شہر موصل کے مغرب میں واقع سنجار پہاڑ پر باقی یزیدی خواتین اور مردوں کے ساتھ پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تھی مگر اس کے خاندان کے باقی افراد گاؤں ہی میں پھنس کر رہ گئے تھے اور اس کا ان کے ساتھ بعد میں کوئی رابطہ نہیں ہوسکا تھا۔

اس نے انٹرویو میں بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے اگست میں اس کے گاؤں میں قریباً چھے سو مردوں کو ہلاک کردیا تھا اور خواتین اور بچوں کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔داعش نے اسی ماہ کے اوائل میں ان یرغمال یزیدی خواتین کو بازار میں فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وہ جب کرد صحافی کو انٹرویو دے رہی تھی تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔وہ اس کو بتارہی تھی کہ وہ تو سنجار پہاڑ پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تھی لیکن جب اس نے اپنے خاندان سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اب چاروں طرف سے گھر چکے ہیں اور باہر نہیں نکل سکتے ہیں۔دوسری مرتبہ جب ان سے فون پر بات کی کوشش کی تو ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔

اس کا کہنا تھا کہ ''مجھے چند روز کے بعد پتا چلا تھا کہ گاؤں میں موجود ہرکسی کو قتل کردیا گیا تھا۔اب میں ہر وقت خود کو چلاتا ہوا محسوس کرتی ہوں۔اپنے دوستوں سے بچنے کے لیے دیوار کے پیچھے چھپ جاتی ہوں۔میں اپنی چھوٹی بہن کے بارے میں یہ سوچ کر غم زدہ ہوجاتی ہیں کہ اس کے ساتھ داعش نے کیا کیا ہوگا؟''

العربیہ نیوز چینل نے گذشتہ سوموار کو اطلاع دی تھی دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے عراق کے شمالی صوبے نینویٰ کے مغرب میں واقع سنجار پہاڑ پر قریباً سات سو یزیدی خاندانوں کا محاصرہ کر لیا تھا اور سنجار کے تحفظ کے لیے تشکیل پانے والی مقامی افراد پر مشتمل ملیشیا داعش کے جنگجوؤں کی مزاحمت کررہی تھی لیکن اس کے پاس اسلحہ اور گولہ وبارود ختم ہو گیا تھا اور اس نے امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک سے ہنگامی طور پر کمک مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یزیدیوں کے روحانی پیشوا تحسین علی سعید نے عالمی برادری سے اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے امداد کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی داعش کے ہاتھوں نسل کشی کو روکا جائے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ داعش کی شورش کے بعد سے قریباً پانچ ہزار یزیدی مارے جاچکے ہیں،خواتین اور بچوں سمیت سات ہزار کو اغوا کر لیا گیا ہے اور ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ کردستان ،شام اور ترکی میں دربدر ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے اگست کے اوائل میں شمالی عراق میں یزیدی آبادی کے دوقصبوں زمار اور سنجار سے کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کو لڑائی کے بعد مار بھگایا تھا اور ان پر قبضہ کر لیا تھا۔یہ دونوں قصبے شمالی شہر موصل اور خودمختارشمالی علاقے کردستان کے نزدیک واقع ہیں۔

داعش کے حملے کے بعد ہزاروں یزیدی دربدر ہوکر سنجار کے پہاڑ پر چلے گئے تھے اور وہاں دس روز تک بے یارومددگاری کے عالم میں رہے تھے۔اس دوران امریکا کے جنگی طیاروں نے داعش کے جنگجوؤں پر فضائی حملے شروع کردیے تھے اور ان یزیدیوں کو فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کردستان منتقل کردیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں