.

عراقی کرد جنگجو شامی شہر کوبانی کے قریب پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے خودمختار شمالی علاقے کردستان کی سرکاری سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کے ڈیڑھ سو سے زیادہ جنگجو شام کے سرحدی شہر کوبانی میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔ العربیہ کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ یہ جنگجو عین العرب کے اڈے سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں.

البیش المرکہ کے جنگجو منگل کے روزعلاقائی دارالحکومت اربیل کے ہوائی اڈے سے بذریعہ پرواز ترکی کے سرحدی قصبے سلوپی گئے ہیں جہاں سے زمینی راستے سے کوبانی جائیں گے۔کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک سینیر عہدے دار حمین حارامی نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ان میں سے اسّی جنگجو اربیل سے کوبانی میں لڑائی کے لیے گئے ہیں اور بہتر کو اس شہر میں تعیناتی کے لیے بھیجا گیا ہے۔

واضح رہے کہ البیش المرکہ نے گذشتہ ہفتے کوبانی میں اپنے ہم نسل کردوں کے ساتھ مل کر دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف براہ راست لڑائی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ اس کے بجائے وہ اب توپ خانے کے ذریعے کرد جنگجوؤں کی مدد کریں گے لیکن اب انھوں نے اپنے اہلکار بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

قبل ازیں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے یہ اطلاع دی تھی کہ شام میں کردوں کی مرکزی جماعت نے عراق کے البیش المرکہ کی مدد لینے سے انکار کردیا تھا۔اس کرد جماعت کا عسکری ونگ ہی اس وقت کوبانی میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی مدد سے داعش کے جنگجوؤں کی مزاحمت کررہا ہے اور اس نے گذشتہ ایک ماہ سے اس شہر پر داعش کا قبضہ نہیں ہونے دیا ہے۔

امریکی فضائی حملے

درایں اثناء امریکا کی مرکزی کمان نے اطلاع دی ہے کہ شام میں داعش کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر امریکی فورسز اور اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے چار فضائی حملے کیے ہیں اور عراق میں نو حملے کیے ہیں جن میں داعش کے متعدد جنگجو مارے گئے ہیں۔

بیان کے مطابق کوبانی میں امریکی حملے میں داعش کے ایک چھوٹے یونٹ اور چار ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔عراق میں دارالحکومت بغداد کے مغرب میں واقع علاقے، شمالی قصبے سنجار کے نزدیک اور حدیثہ کے شمال مغرب میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی ہے۔