.

کوبانی:داعش کے مقابل کرد جنگجو ریحانہ قتل ؟

میڈیا ذرائع کے مطابق داعش نے جنگجو خاتون کا سرقلم کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سرحدی شہر کوبانی میں دولت اسلامی (داعش) کے خلاف جنگ آزما کردملیشیا کی ایک مشہور جنگجو خاتون مبینہ طور پر داد شجاعت دیتے ہوئے میدان جنگ میں کام آگئی ہے۔

برطانوی روزنامے ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق کردملیشیا ویمن ڈیفنس یونٹ کی رکن ریحانہ کا داعش کے جنگجوؤں نے سرقلم کردیا ہے۔ایک صحافی نے اس کی فتح کے نشان والی تصویر ٹویٹ کی ہے اور اس میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لڑائی میں داعش کے ایک سو جنگجوؤں کو ہلاک کیا تھا۔

ریحانہ کا اصل نام کوئی اور تھا اور یہ اس کا عرفی نام تھا۔ وہ کوبانی میں کرد مزاحمت کی ایک پوسٹر گرل کے طور پر مشہور ہوئی تھی۔داعش کے ایک جنگجو نے اس کے تن سے جدا سر کی تصویر ٹویٹر پر جاری کی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس تصویر کی بہت تشہیر کی جارہی ہے۔تاہم کوبانی کا دفاع کرنے والی ملیشیا پیپلز ڈیفنس یونٹ (وائی پی جی) نے داعش کے ہاتھوں اس کی ہلاکت سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ وائی پی جی شمالی اور شمال مشرقی شام میں طاقتور جماعت کرد ڈیمو کریٹک یونین پارٹی کا عسکری ونگ ہے۔اس میں شامل کرد خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ کوبانی میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں شریک ہیں اور انھوں نے گذشتہ ایک ماہ سے داعش کے جنگجوؤں کو اپنے شہر پر قبضہ نہیں کرنے دیا ہے حالانکہ انھوں نے اس سے کم وقت میں عراق کے پانچ شمالی صوبوں پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے عراقی فوج اور اس کی حامی شیعہ ملیشیاؤں کو مار بھگایا تھا۔

لیکن کرد جنگجوؤں نے ان کے دانت کھٹے کردیے ہیں اور کوبانی کی جنگ ان کے لیے روزبروز وبال جان بنتی جارہی ہے۔انھیں اس محاذ پر بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔وہ برسرزمین کرد جنگجوؤں کے ساتھ دوبدو لڑائی لڑرہے ہیں تو انھیں آسمان سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان کی پیش قدمی رُک چکی ہیں اور بعض محاذوں پر تو انھیں پسپائی اختیار کرنا پڑرہی ہے۔