اسرائیلی عرب کو داعش میں شمولیت پر جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی ایک عدالت نے عرب شہری کو شام اور عراق میں برسرپیکار جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ (داعش) میں شمولیت کے الزام میں قصوروار قرار دے کر بائیس ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق تِیئس سالہ نوجوان احمد شرابجی اسرائیل کے شمالی قصبے اُم الفہم سے تعلق رکھتا ہے اور وہ 16 جنوری 2014ء کو بعض دوسرے افراد کے ساتھ غیر قانونی طور پر ترکی کے راستے شام گیا تھا۔انھیں مبینہ طور پر انسانی اسمگلر وہاں لے کر گئے تھے۔

اس نوجوان نے پہلے شامی باغیوں کے ایک گروپ ''جیشِ محمد'' میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس کے ایک ہفتے کے بعد وہ داعش میں شامل ہوگیا تھا۔شرابجی نے شام میں اسلحہ چلانے کی تربیت حاصل کی تھی۔اس نے 16 اپریل کو اسرائیل کے ایک دفاعی عہدے دار سے رابطہ کیا تھا اور اس کو بتایا تھا کہ وہ واپس آنا چاہتا ہے۔ اس کو 20 اپریل کو شام سے اسرائیل واپسی پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ذمے دار سکیورٹی سروس شین بیت نے اطلاع دی تھی کہ ایک عرب اسرائیلی ڈاکٹر داعش کی جانب سے شام میں لڑتے ہوئے مارا گیا تھا۔

صہیونی ریاست کے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ وہ تیس عرب اسرائیلی شہریوں کے شام جانے اور ان کی وہاں باغی جنگجو گروپوں میں شمولیت سے آگاہ ہیں۔اس وقت وہ صدر بشارالاسد کی وفادار سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں۔تاہم ان میں سے بہت کم نے داعش میں شمولیت اختیار کی ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر سلفی جہادی پس منظر کے حامل ہیں۔

اسرائیلی ریاست میں شامل فلسطینی علاقوں میں آبادعربوں کی تعداد قریباً چودہ لاکھ ہے اور وہ کل ملکی آبادی کا بیس فی صد ہیں۔ وہ ان ایک لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینیوں کی اولاد میں سے ہیں جو 1948ء میں صہیونی ریاست کے قیام کے وقت اپنے آبائی علاقوں ہی میں مقیم رہے تھے اور انھوں نے اپنے آباء واجداد کی سرزمین کو چھوڑنے سے انکار کردیا تھا۔واضح رہے کہ اسرائیل اور شام 1967ء اور 1973ء کی جنگوں کے بعد سے ٹیکنیکل طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں