.

امریکی رضاکار اور 18 شامی فوجیوں کے سرقلم

داعش نے بے دردی سے ذبح کیے گئے فوجیوں کی ویڈیو جاری کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے امریکا سے تعلق رکھنے والے ایک امدادی کارکن پیٹر کاسیگ اور اٹھارہ شامی فوجیوں کو انتہائی بے دردی سے ذبح کردیا ہے۔

داعش نے اتوار کو ایک ویڈیو جاری کی ہے۔اس میں مشہور نقاب پوش قصاب جہادی جان انگریزی میں صدر براک اوباما سے مخاطب ہے اور انھیں کَہ رہا ہے:''یہ پیٹر ایڈورڈ کاسیگ آپ کے ملک کا شہری ہے۔اگر ان کے جنگجوؤں پر حملے جاری رہے تو پھر امریکی فوجیوں کا اسی طرح قتل عام کیا جاتا رہے گا۔ ہم یہاں ضابق میں پہلے امریکی صلیبی کو دفن کررہے ہیں اور آپ کی باقی فوج کی یہاں آمد کے بڑی شدت سے متنظر ہیں''۔

چھبیس سالہ کاسیگ سابق امریکی فوجی ہے اور وہ شام میں خانہ جنگی سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے آیا تھا۔ اس نے داعش کے ہاتھوں یرغمال بننے سے قبل اسلام قبول کر لیا تھا اور اس کا اسلامی نام عبدالرحمان کاسیگ رکھا گیا تھا۔اس سے پہلے داعش نے اکتوبر میں برطانوی امدادی کارکن ایلن ہیننگ کے قتل ایک ویڈیو جاری کی تھی ۔اس کے آخر جہادی جان نے کاسیگ کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

برطانوی دفتر خارجہ کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ ہم اس نئی ویڈیو سے آگاہ ہیں اور ہم اس کے مواد کا تجزیہ کررہے ہیں۔اگر یہ درست ہے تو یہ ایک نہایت ہولناک قتل ہوگا۔

اس ویڈیو میں جہادی جان تو صرف امریکی شہری کو ذبح کررہا ہے لیکن اس کے ساتھ باقی باریش جنگجو بیک وقت اٹھارہ شامی فوجیوں کو زمین پر گھٹنوں کے بل بٹھا کر بے دردی سے ذبح کررہے ہیں۔تمام مقتولین کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے ہیں۔

یہ ویڈیو بظاہر شمالی شام میں واقع قصبے ضابق میں فلمائی گئی ہے اورسولہویں صدی کے دوران عثمانی فوج اور مملوکوں کے درمیان یہاں ایک بڑی جنگ برپا ہوئی تھی جس میں عثمانوں کو فتح نصیب ہوئی تھی اور پھر پورے خطے میں خلافت عثمانیہ کے قیام کی راہ ہموار ہوئی تھی۔اب داعش بھِی اپنے زیرنگیں علاقوں میں خلافت کے قیام کی دعوے دار ہے۔