فلسطین کو تسلیم کرنے سے منزل نہیں ملے گی، جرمنی
جرمنی فلسطین کو تسلیم نہیں کرے گا، انجیلا میرکل
جرمنی کی چانسلرانجیلا میرکل نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالے سے مختلف ملکوں کے اعلانات کی اپنے ملک کی طرف سے مخالفت کی ہے۔
فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا تازہ سلسلے کا آغاز سویڈن کی نو منتخب حکومت کی طرف سے سامنے آیا تھا اور اس نے 30 اکتوبر کو سرکاری طور فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جبکہ اسی ہفتے سپین کی پارلیمنٹ نے فلسطین کے حق میں ایک قرارداد منظور کی ہے۔ برطانیہ اور آئر لینڈ کی پارلیمنٹس بھی ایسی ہی قراردادیں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے حق میں منظور کر چکی ہیں۔
جرمنی یورپی دنیا میں اسرائیل کا بہت قریبی اتحادی ہے اور اس نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے حالیہ پے درپے واقعات کی مخالفت کی ہے۔ چانسلر اس طریقے سے فلسطینی ریاست کے تسلیم کیے جانے کو ناپسند کیا ہے۔ چانسلر انجیلا میرکل نے واضح کیا ہے کہ جرمنی اس راستے کو اختیار نہیں کرے گا۔
انجیلا میرکل نے کہا "ہم مشرق وسطی کے مسئلے کے دوریاستی حل کے حامی ہیں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کس قدر مشکل ہے، ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس طرح یکطرفہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لینے سے اصل منزل کی طرف نہیں بڑھ سکتے ہیں۔"
جرمن چانسلر نے کہا "یہ بہتر ہوگا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات پر توجہ مرکوز کی جائے، اگرچہ یہ موجودہ حالات میں کافی مشکل لگ رہا ہے۔"
-
فلسطین میں یہودی آباد کاری غیر قانونی ہے:ِ موگرینی
یورپی یونین کے پاس اسرائیل پر اقتصادی پابندیوں کی تجویز زیر غور نہیں
بين الاقوامى -
فلسطین کے حق میں برطانوی قرارداد، اسرائیل ناراض ہو گیا
قرارداد سے امن مذاکرات کو نقصان ہو گا: اسرائیلی وزیرخارجہ
مشرق وسطی -
فلسطین کو تسلیم کرنا قبل از وقت ہے:امریکا
سویڈن کے اعلان کے بعد برطانیہ پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے
بين الاقوامى