فلسطین کے حق میں برطانوی قرارداد، اسرائیل ناراض ہو گیا

قرارداد سے امن مذاکرات کو نقصان ہو گا: اسرائیلی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق قرارداد کی منظوری امن مزاکرات کی راہ کو کھوٹا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ لائیبرمین نے اس قرارداد پر کہا ہے '' قبل از وقت فلسطینی ریاست کے لیے بین الااقوامی برادری کی طرف سے تسلیم کیے جانے کے اشارے فلسطینی قیادت کے لیے پریشانی کا ذریعہ بننے والے پیغامات ہو سکتے ہیں ۔''

لاِئبرمین کا مزید کہنا تھا '' اس طرح کی مدد سے فلسطینی قیادت کو ان مسائل سے فرار کا موقع فراہم ہو سکتا ہے جو فریقین کو درپیش ہیں۔''

اسرائیلی وزیر خارجہ کے بقول یہ صورت حال مشرق وسطی میں امن مذاکرات کے لیے اچھی نہیں ہو گی۔'' اسرائیل کے لیے سویڈن حکومت کے حالیہ اعلان کے بعد اسرائیل کے لیے عالمی سطح پر یہ ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ نے پیر کے روز 12 کے مقابلے میں 274 ووٹوں کی اکثریت سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر زور دینے والی قرارداد منظور کی ہے۔ ''

قرارداد میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ '' اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کو بھی تسلیم کیا جائے۔'' تاہم اس قرار داد کی حیثیت محض اخلاقی اور سیاسی ہے۔ قانونی طور پر برطانوی حکومت اس پر عمل کرنے کی پابند نہیں ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ میں یہ تحریک ایک ہفتہ قبل اس وقت پیش کی گئی تھی جب سویڈن کی حکومت نے سرکاری طور پر فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر کے برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک میں فلسطینی ریاست کے حق میں ایک نئی لہر پیدا کر دی تھی۔ اسرائیل نے اس تحریک کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ فلسطینی ریاست صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہو سکتی ہے۔

دوسری جاننب برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، کی کابینہ کے ارکان اور متعدد سرکاری ارکان نے پارلیمنٹ میں پیش کردہ قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ہے۔

البتہ اس قرار داد سے کئی ہفتے پہلے ہی کیمرون کابینہ کی ایک مسلمان رکن سعیدہ وارثی نے حکومت کی اسرائیل کے بارے میں غیر متوازن اور غیر حقیقت پسندانہ پالیسی کے خلاف وزارت سے استفا دے دیا تھا۔

اب اس موقع پر کابینہ کے ارکان سے کہا گیا تھا کہ وہ قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہ لیں۔ تاہم قدامت پسند حکمران جماعت کا اس بارے میں موقف اس قدر سخت یا مواندانہ نہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں