.

اقوام متحدہ:غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی تحقیقات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ حالیہ جنگ کے دوران عالمی ادارے کے زیر اہتمام تنصیبات پر حملوں اور وہاں فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے اسلحہ ذخیرہ کرنے سے متعلق الزامات کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں کی ایک ٹیم جنگ کے خاتمے کے تین ماہ کے بعد منگل کو غزہ شہر پہنچی تھی۔ انھوں نے قبل ازیں مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی نمائندوں سے ملاقات کی تھی۔توقع ہے کہ ان کی تحقیقات قریباً تین ہفتے تک جاری رہے گی۔

غزہ میں اقوام متحدہ کی فلسطینیوں کے لیے امدادی ایجنسی اُنروا کے ڈائریکٹر آپریشنز رابرٹ ٹرنر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''تحقیقات کار متاثرہ جگہوں کا معائنہ کررہے ہیں اور متعلقہ لوگوں کے اںٹرویوز بھی کررہے ہیں۔وہ خاص طور پر اقوام متحدہ کی تنصیبات کی غیر جانبداری کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لے رہے ہیں''۔

اسرائیلی فوج نے جولائی اور اگست میں غزہ کی پٹی میں جارحیت کے دوران اقوام متحدہ کے زیر اہتمام چھے مقامات پر توپ خانے اور ٹینکوں سے گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں وہاں پناہ لینے والے تیس فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔

جنگ کے دوران اقوام متحدہ کے بہت سے بند اسکولوں میں حماس کی جانب سے راکٹ ذخیرہ کرنے کا بھی پتا چلا تھااور اسرائیلی فوج نے ان اسکولوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔اسرائیل اور حماس دونوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کی مقرر کردہ تحقیقاتی ٹیم سے تعاون کا اعلان کررکھا ہے۔

تاہم اسرائیل نے جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی مقرر کردہ الگ تحقیقاتی ٹیم سے تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔یہ ٹیم غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کررہی ہے۔اسرائیل کا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر الزام ہے کہ وہ اس کے بارے میں متعصبانہ رویہ رکھتی ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان پال ہیرسچسن کا کہنا ہے کہ بین کی مون کی انکوائری کمیٹی کی تحقیقات ہمارے لیے مصدقہ ہے۔اس سے ہمیں تنازعے کی صورت میں اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔

دوسری جانب حماس کے ترجمان سامی ابوزہری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کو ان دونوں تحقیقاتی ٹیموں سے تعاون کرکے خوشی ہوگی اور اسرائیل کو انسانی حقوق کونسل کی تحقیقاتی ٹیم سے بھی تعاون کرنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایک کمیٹی سے تعاون اور دوسری کا بائیکاٹ ناقابل قبول ہے اور اس سے اقوام متحدہ ہی کی عالمی حیثیت اور شہرت کو نقصان پہنچے گا۔