کُرد فوج جبل سنجار کو داعش سے آزاد کرانے میں کامیاب
عراق کے نیم خودمختار صوبہ کردستان کی البیشمرکہ فورس کے ایک عسکری ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ کرد فوج نے طویل محاصرے کے بعد عراق کے شہر موصل کے مغربی علاقے جبل سنجار میں داعش کو شکست دینے کے بعد علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
خیال رہے کہ جبل سنجار پر دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے جنگجوئوں نے چار ماہ قبل قبضہ کرنے کے بعد یزیدی قبیلے کے سیکڑوں خاندانوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کردستان نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایڈوائزر مسرور بارزانی نے صحافیوں کو بتایا کہ کرد فوج (البیشمرکہ) نے جبل سنجار کا محاصرہ توڑنے کے بعد علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
کرد فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ البیشمرکہ نے جبل سنجار کے تین اہم دیہات پر قبضہ مضبوط بنانے کے بعد داعش کے ہاتھوں یرغمال یزیدی قبیلے کے سیکڑوں خاندان بھی چھڑا لیے ہیں۔ تل عفر میں کرد فوج نے داعش کے ٹھکانوں پر مسلسل گولہ باری جاری رکھی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں داعش کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور داعش کے جنگجو لاشیں اور زخمی چھوڑ کر شام کی طرف فرار ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ شام کی سرحد سے متصل جبل سنجار پر کرد فوج نے تازہ زمینی آپریشن گذشتہ بدھ کو امریکا کی قیادت میں عالمی اتحادی فوج کے فضائی حملوں کے سائے میں شروع کیا تھا۔ دو روز کے مسلسل زمینی اور فضائی حملوں میں داعش کو جبل سنجار کے کئی اہم علاقوں میں شکست دی گئی ہے۔
جمعرات کے روز عالمی اتحادی فوجیوں کے حملوں کے ساتھ کرد فوج نے جبل سنجار کے آٹھ اہم مقامات پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی’’اے ایف پی‘‘ نے داعش کےخلاف اتحادی فوج کے آپریشنل انچارج جنرل جیمز ٹیری کا یہ دعوی نقل کیا ہے کہ حالیہ چند روز کے فضائی حملوں کے بعد کرد فوج نے داعش کے زیر قبضہ 100 مربع کلومیٹر کے علاقے کا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔ جنرل ٹیری نے بتایا کہ گذشتہ سوموار کے بعد سے اب تک عراق کے مختلف علاقوں میں داعش کے ٹھکانوں پر 50 سے زاید فضائی حملے کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں جبل سنجار کے ایک بڑے علاقے پر داعش کا قبضہ ختم کیا گیا۔
کل جمعرات کو اتحادی فوج نے شمالی عراق میں داعش کے زیر قبضہ علاقے تلعفر پر بھی کئی فضائی حملے کیے۔
کردستان نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ کرد فوج نے عالمی اتحادی فوجوں کے حملوں کے ساتھ زمینی پیش قدمی کرتے ہوئے شمالی عراق میں داعش کے زیر نگین آٹھ اہم مقامات پر قبضہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ البیشمرکہ فورس نے شام کی سرحد سے متصل ربیعہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اس سے قبل شام کی سرحد کے قریب زمار کے مقام 25 اکتوبر کو قبضہ کیا گیا تھا۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ بیشمرکہ کے زمینی آپریشن میں داعش کے 80 جنگجو ہلاک کئے گئے ہیں۔ البیشمرکہ کی جانب سے داعش کے ہلاک کیے گئے جنگجوئوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی دکھائی گئی ہیں۔
ادھر صوبہ کردستان کے قریب قسریج کے مقام پر ایک خود کش حملے میں داعش کے سات جنگجو ہلاک اور 34 زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب داعشی خود کش بمباری ایک فوجی چوکی طرف بڑھا۔ کرد فوج نے اسے روکنے کے لیے فائرنگ کی مگر وہ دھماکا کرنے میں کامیاب ہوگیا جس کے نتیجے میں کم سے کم سات فوجی ہلاک ہو گئے۔