شامی اپوزیشن رہ نمائوں کے اغواء میں ملوث گینگ گرفتار
اغواء کے بعد یرغمالی شامی حکومت کے حوالے کیے گئے
لبنان میں سیکیورٹی حکام نے اطلاع دی ہے کہ پچھلے چند روز میں مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران شامی اپوزیشن کے اہم رہ نمائوں کے اغواء کے بعد اُنہیں شامی حکومت کے حوالے کرنے میں ملوث گینگ کے 15 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے 'العربیہ' کو بتایا کہ پولیس نے شامی سرحد کے قریب راشیا کے مقام پر ایک مکان پر چھاپہ مار شامی اپوزیشن کے اغواء میں ملوث گروپ کے سرغنہ ھیثم سلیمان حمد اور اس کے چودہ ساتھیوں کو حراست میں لے ان سے تفتیش کی ہے۔ دوران تفتیش انہوں نے اب تک شامی اپوزیشن کے چار اہم رہ نمائوں کے اغواء کے بعد ان کی بشار الاسد حکام حوالگی کا اعتراف کیا۔ مغوی رہ نمائوں میں محمد النعمانی بھی شامل ہیں جنہیں کچھ عرصہ قبل لبنان سے اغواء کے بعد شام کے حوالے کیا گیا تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی اپوزیشن رہ نمائوں کو یرغمال بنانے کا واقعہ صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی بغاوت کے کچھ ہی عرصہ بعد شروع ہو گیا تھا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا شکار شامی اپوزیشن رہ نما شبلی العیسمی بنے، جس کے بعد تواتر کے ساتھ کئی دوسرے رہ نما بھی لاپتا ہوتے رہے ہیں۔ بعد ازاں ان کے بارے میں یہ اطلاعات آئیں کہ وہ شام کی سرکاری جیلوں میں قید ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ فورسز کی کارروائی میں جن پندرہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں شام اور لبنان کے شہری بھی شامل ہیں جو صدر بشارالاسد کی البعث پارٹی سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے مبینہ طور پر کئی اہم شامی اپوزیشن رہ نمائوں کو یرغمال بنانے کے بعد شامی حکومت کے حوالے کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں وادی البقاء کے مختلف مقامات میں چھاپوں کے دوران پہلے آٹھ افراد کو حراست میں لیا۔ ان کی نشاندہی پر مزید سات افراد کو پکڑا گیا ہے۔ ان میں سے ایک گروپ کے سربراہ کی شناخت ماجد منصور نامی شخص سے کی گئی ہے۔ اسے حراست میں لینے کے بعد تین مزید افراد کو گرفتار کیا گیا۔
دوران تفتیش انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اب تک شامی اپوزیشن کے چار اہم رہ نمائوں کو اغواء کے بعد شامی حکومت کے حوالے کر چکے ہیں۔ ان میں احرار الشام کے رہ نما محمد النعمانی بھی شامل ہیں۔ مسٹر نعمانی لبنان میں قید رہ چکے ہیں تاہم انہیں عدالت کے حکم پر کچھ عرصہ قبل رہا کیا گیا تھا۔ رہائی کے چند ماہ بعد انہیں اغواء کر لیا گیا تھا۔