.

فلسطینی ریاست: سلامتی کونسل میں نئی قرارداد لانے کا امکان

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں اسرائیل کے خلاف مقدمات کی بھی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینیوں نے اسرائیلی کے مکرنیوں اور انسانیت سوز مظالم پر خاموش بیٹھے رہنے کے بجائے عالمی اداروں اور بین الاقوامی برادی کی سطح پر اسرائیل کے خلاف مسلسل دباو اور سفارتی و قانونی تعاقب کا فیصلہ کیا ہے۔

اس فلسطینی حکمت عملی کے تحت ازسر نو سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ہزار سترہ میں فلسطینی علاقوں پر موجود اسرائیلی قبضے کے یقینی خاتمے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی انخلاء کی قرارداد پیش کی جائے گی۔ نیز انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں اسرائیل کے خلاف مقدمات دائر کیے جائیں گے۔

ایسی ہی ایک قرارداد سلامتی کونسل نے اکتیس دسمبر کو ایک ووٹ کم ہونے کی بنیاد پر مسترد کر دی تھی، تاہم فلسطینی سمجھتے ہیں کہ سلامتی کونسل کے نئے غیر مستقل ارکان کی اکثریت ایسے ممالک کی ہو گی جن سے فلسطینی ریاست کے حق میں اور اسرائیلی قبضے کے خلاف ووٹ حاصل کرنا نسبتا آسان ہو گا۔

واضح رہے سلامتی کونسل میں اردن کی رکنیت نئے سال میں بھی جاری رہے گی۔ اسی وجہ سے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمو عباس نے سلامتی کونسل میں قرارداد ایک مرتبہ پھر پیش کرنے کی حکمت عملی پر اردن کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ میں پچھلے سال ماہ جون سے جاری اسرائیلی مظالم کے علاوہ انیس سو سڑسٹھ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی غیر قانونی تعمیر کا مسئلہ بھی آئی سی سی میں اٹھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اسرائیلی فورسز نے پچھلے سال بارہ جون کو تین اسرائیلی نوجوانوں کے لاپتہ ہونے کے بعد مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں پر مظالم کی ایک نئی مہم شروع کی تھی۔ اس دوران مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں دوہزار سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ درجنوں کو شہید کیا گیا، جبکہ غزہ پر جنگ مسلط کر کے اکیس سو سے زائد فلسطینی مزید شہید کر دیے۔

فلسطینیوں کے مذاکراتی شعبے کے سربراہ صائب عریکات نے تصدیق کی ہے کہ انٹرنیشل کریمنل کورٹ میں غزہ پر مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی مظالم ایک مقدمہ ہو گا، نیز ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر ایک الگ مقدمہ ہو گا۔ فلسطینی اتھارٹی نے دو جنوری کو ہیگ میں قائم اس بین الاقوامی عدالت میں شامل ہونے کی درخواست کی تھی۔ اب فلسطینی اسرائیلی مظالم کو اس عدالت میں اٹھا سکیں گے۔