.

''اب بھی مصر کا صدر ہوں''

ڈاکٹر مرسی کا عدالت میں صدر السیسی کے خلاف تندو تیز بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے اپنے خلاف جاسوسی کے الزام میں قائم مقدمے میں پہلی مرتبہ عدالت میں بیان قلم بند کروایا ہے اور ملک کے موجودہ صدرعبدالفتاح السیسی پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے ایک بغاوت کے ذریعے ان کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔

ڈاکٹر محمدمرسی اور ان کے ساتھ پینتیس دیگر مدعا علیہان کے خلاف جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔انھیں اتوار کو عدالت میں ایک پنجرے میں بند کرکے پیش کیا گیا ہے۔انھوں نے قیدیوں والا سفید لباس پہن رکھا تھا۔

انھوں نے عدالت کے روبرو کہا کہ ''میں صدر ہوں اور مجھے کوئی اس منصب سے محروم نہیں کرسکتا ہے''۔وہ اپنے بیان کے دوران متعدد مرتبہ صدر عبدالفتاح السیسی پر گرجے برسے ہیں لیکن ان کا نام نہیں لیا۔

انھوں نے کہا :''3 جولائی 2013ء کو فوجی سربراہ کی جانب سے آئین کو معطل کرنے اور صدر کو برطرف کرنے کے اقدام کو دیکھ کر میں حیرت زدہ رہ گیا تھا۔اگر یہ بغاوت نہیں ہے ،تو پھر یہ کیا ہے''۔

ڈاکٹر مرسی نے عدالت کی اتھارٹی کو بھی چیلنج کیا اور کہا کہ ''اس عدالت کو قانون اور آئین کے تحت میرے خلاف مقدمہ چلانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے''۔انھوں نے تین رکنی پینل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ''جنٹلمین آپ میرے جج نہیں ہیں اور یہ میری عدالت نہیں ہے''۔

انھوں نے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف سنہ 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک کے دوران قریباً ساڑھے آٹھ سو مظاہرین کی ہلاکتوں کا الزام بھی عبدالفتاح السیسی پر عاید کیا ہے۔

انھوں نے عدالت میں کہا کہ ''ان کے دور صدارت میں تحقیقات کاروں نے قاہرہ میں میدان التحریر کے نزدیک واقع ہوٹلوں کے مینجروں کے بیانات قلم بند کیے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ بغاوت کے لیڈر (السیسی) کی سربراہی میں مسلح افراد نے مظاہرین کو گولیوں کا نشانہ بنایا تھا''۔

واضح رہے کہ اس وقت عبدالفتاح السیسی مصر کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ تھے اور انھیں ڈاکٹر مرسی ہی نے اپنے دور صدارت میں ترقی دے کر مسلح افواج کا سربراہ مقرر کیا تھا۔مظاہرین کی ہلاکتوں کا مقدمہ سابق صدر حسنی مبارک ،ان کے وزیرداخلہ اور چھے سکیورٹی چیفس کے خلاف چلایا گیا تھا لیکن نومبر میں ایک عدالت نے ان کے خلاف دائر اس مقدمے ہی کو واپس لے لیا تھا۔

مصر کے پراسیکیوٹرز نے ڈاکٹر مرسی پر پاسداران انقلاب ایران کو ریاست کے خفیہ راز افشاء کرنے کا الزام عاید کیا تھا جن کا مقصد مصر کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔پراسیکیوٹرز نے معزول صدر پر یہ سنگین الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے اخوان کے پینتیس دوسرے لیڈروں، فلسطینی جماعت حماس اور ایران کے ساتھ مل کر مصر کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کی تھی۔

ڈاکٹر محمدمرسی مصر کے جمہوری طور پر منتخب پہلے صدر تھے۔ان سمیت پندرہ مدعا علیہان کے خلاف ان کے دور صدارت میں دسمبر 2012ء میں دس مظاہرین کی ہلاکتوں کا مقدمہ بھی چلایا جارہا ہے اور قاہرہ کی ایک فوجداری عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سنانے کے لیے اکیس اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔ڈاکٹر مرسی کے خلاف کسی مقدمے کا یہ پہلا فیصلہ ہو گا۔

ان کے علاوہ اخوان المسلمون کے مرکزی قائدین محمد البلتاجی اور اعصام العریان کو بھی مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں ماخوذ کیا گیا ہے۔اس مقدمے کے پندرہ مدعا علیہان میں سے آٹھ اس وقت زیر حراست ہیں اور باقی مفرور ہیں۔

ڈاکٹر محمد مرسی،اخوان کے لیڈروں اور لبرل کارکنان سمیت چوبیس افراد کے خلاف عدلیہ کی توہین سمیت مختلف الزامات کے تحت تین اور مقدمات بھی چلائے جا رہے ہیں۔ان میں اپنے مخالفین کو قتل کرنے کی شہ دینے ،غیر ملکی گروپوں کے ساتھ مل کر سازش کرنے اور جیل توڑنے کے الزامات پر مبنی مقدمات شامل ہیں۔ان تینوں کیسوں میں انھیں موت کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں کے لیڈروں کے خلاف مختلف الزامات کے تحت ٹرائل 3 جولائی 2013ء کو ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد سے جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔