گولان حملہ، ایران کا اسرائیل کو بالواسطہ انتباہ

امریکا کو سفارتی چینل سے پیغام دیا، امریکا کا تبصرے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read


ایران نے اسرائیل کے شام میں گولان کے علاقے میں حالیہ حملے کے دوران ایرانی جنرل کی ہلاکت کے بعد امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل نے سرخ لکیر عبور کر لی ہے۔

اٹھارہ جنوری کو ہونے والی اسرائیلی کارروائی کے باعث ایرانی پاسداران انقلاب کا جنرل محمد علی اللہ دادی حزب اللہ کے چھ جنگجووں سمیت ہلاک ہو گیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک قافلہ گولان کی پہاڑیوں کے پاس سے گذر رہا تھا کہ اسرائیل نے فضائی کارروائی کر دی۔

واضح رہے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ شام کی اسد رجیم کے خلاف باغیوں کو کچلنے کے لیے شام میں لڑ رہی ہے۔ تاہم اسرائیل نے سرکاری طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین عامر نے کہا ''ہم نے سفارتی ذرائع سے امریکا کو ایک پیغام بھجوایا ہے ، جس میں کہا گیا ہے صہیونی رجیم نے ایران کے حوالے سے سرخ لکیر کو عبور کیا ہے۔ ''

ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق نے امریکا تک پہنچائے گئے اپنے اس پیغام میں یہ بھی کہا ہے کہ جو بھی اس واقعے کا ذمہ دار ہے اسے اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے اس بارے میں انکشاف ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل کی یاد میں منعقدہ تعزیتی تقریب کی سائیڈ لائینز میں بات چیت کے دوران کیا۔ تعزیتی تقریب میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ جنرل سلیمانی بھی شریک ہوئے۔

امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین سکئی نے اس بارے میں کسی تبصرے یا تصدیق سے معذرت کی، البتہ انہوں نے براہ راست اس امر کی تردید بھی نہیں کی ہے۔ جین سکئی نے کہا '' دھمکی کسی بھی انداز میں دی جائے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور اسرائیل کی سلامتی اور تحفظ کی سختی سے حمایت کرتے ہیں۔''

امریکی ترجمان جین سکئی اس قیاس آرائی کی تردید کی ایران نے امریکا کو اس نوعیت کا کوئی پیغام سوئٹزر لینڈ میں پچھلے ہفتے میں ہونے والی ملاقات کے دوران پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا جنیوا میں صرف ایرانی جوہری معاملہ زیر بحث آیا تھا

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں