.

مصر خطے میں امریکا کا اہم ترین اسٹریٹیجک پارٹنر ہے

روسی صدر کے دورہ مصر سے تعلقات متاثر نہیں ہوں‌ گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں پچھلے چند برسوں سے آنے والی سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں قاہرہ کے امریکا سمیت عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کے باب میں بھی اتار چڑھائو آتا رہا ہے تاہم امریکی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قاہرہ خطے میں‌ واشنگٹن کا اہم ترین اتحادی اور تزویراتی شریک کا کردار ادا کر رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک ہفتہ پیشتر امریکی صدر براک اوباما نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کا ملک دفاعی شراکت داری کے ساتھ ساتھ جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے مصر کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز میں واشنگٹن ہر ممکن مدد کرتا رہے گا تاکہ مصر میں آئین کی بالادستی اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔

وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ اسے مصر کے اندرونی امن وامان کے مسائل کا بہ خوبی اندازہ اور احساس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا، مصر کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کوئی پیش گئی شرط عاید نہیں کرے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان دینا بدوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مصر اور امریکا کے مفادات مشترک ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ، مشرق وسطیٰ ‌میں قیام امن، اسرائیل کے ساتھ بہتر تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے امریکا، مصر کی ہمیشہ ضرورت محسوس کرتا رہے گا۔

امن وامان اولین ترجیح

روسی صدر ولادی میر پوتن کے دورہ مصر کے موقع پر امریکا میں ‌بھی مصر سے تعلقات کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں قیام امن اور استحکام کے حوالے سے مصر کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اپنے دیرینہ اتحادی کے لیے اندرون ملک جمہوریت اور امن وامان کے قیام کے لیے میدان کھلا چھوڑنے کو تیار ہے۔

امریکی خاتون ترجمان دینا بدوی نے کہا کہ "مصر امریکا کے لیے تزویراتی شریک ہے۔ ہم قاہرہ اور واشنگٹن کے درمیان دوستانہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے پابند ہیں۔ تاہم انہوں ‌نے کہا روسی صدر ولادی میر پوتن کا دورہ مصر کسی حد تک امریکیوں کے لیے باعث حیرت ضرور ہو سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں دینا بدوی کا کہنا تھا کہ"جب ہم مصر کے جغرافیائی محل وقوع پر نظر دورڑاتے ہیں تو ہمارے سامنے مصر کی اہمیت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ نہر سویز سے گذرنے والی تیل پائپ لائن بحیرہ احمر سے بحر متوسط تک مصر ہی سے ہو کر گذرتی ہے جس کے ذریعے لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ نیز مصر نے نہر سویز میں امریکی کارگو جہازوں کو آمد ورفت کی کھلی اجازت دے رکھی ہے جو آزادانہ تیل اور دیگر سامان بحر ہند اور خلیج عرب کے آس پاس کے ممالک تک پہنچاتے ہیں۔ لیبیا میں بدامنی کے بعد امریکا کو خطے میں مصر جیسے اتحادی کی ضرورت زیادہ ہو جاتی ہے۔

مبصرین کے خیال میں امریکی حکام روسی صدر ولادی میر پوتن کے دورہ مصر سے خوف زدہ نہیں تاہم وہ حیرت زدہ ضرورت ہیں۔ امریکیوں کے لیے یہ بات سمجھنا زیادہ مشکل ہے کہ وہ روسی صدر کے دورہ مصر کو 'تعلقات کے مقابلے کی دوڑ' کا حصہ قرار دیں یا نہیں کیونکہ روسی صدر ایک ایسے وقت میں مصر پہنچے ہیں جب امریکا نے بھی قاہرہ کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مستحکم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مصر، ماسکو کے لیے زیادہ اہم نہیں‌ ہو سکتا جتنا کہ امریکا کے لیے اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ مصر میں ڈیڑھ سال پیشتر منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت اور اخوان المسلمون کے حامیوں کو موت اور عمر قید کی اجتماعی سزائیں دینے پر امریکا کو بعض تحفظات لاحق ہوئے تھے۔ امریکا نے مصر کی عبوری حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کو معطل نہ کرے تاہم ساتھ ہی ساتھ امریکا نے یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی وہ مصر میں حقیقیی جمہوریت کے قیام اور ریاستی اداروں کی مضبوطی میں اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا، مصر میں جمہوری اصلاحات کے ساتھ ساتھ خطے میں جاری دہشت گردی اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف جنگ میں قاہرہ سے تعاون کا بھی خواہاں ہے۔