.

بغداد: قبائلی سربراہ کے قتل پر سنی ارکان پارلیمان کا بائیکاٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی پارلیمنٹ کے سنی سیاستدانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک معروف قبائلی رہنما کے مبینہ طور پر شیعہ جنگجوئوں کے ہاتھوں قتل پر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔

قبائلی رہنما شیخ قاسم سویدان الجنابی کو ان کے بیٹے اور سات محافظوں سمیت بغداد میں گھات لگا کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

مبصرین کے مطابق اس بائیکاٹ کی وجہ سے عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس سے پہلے عراقی صوبے بصرہ میں تین سنی علماء کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

عراقی پارلیمنٹ کے ممبر اور قبائلی رہنما کے بھتیجے زید الجنابی بھی حملے کے وقت شیخ سویدان کے ہمراہ موجود تھے مگر وہ محفوظ رہے۔

سنی ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے بائیکاٹ کا اعلان سنی پارلیمانی سپیکر سالم الجبوری کے فیس بک پیج پر کیا گیا تھا۔ تین سو اٹھائیس کے ایوان میں سنی ارکان کی تعداد 73 ہے۔

بیان کے مطابق "سنی پارلیمانی بلاک کے نمائندوں نے ہفتے کی شام کو ایک غیر معمولی ملاقات کا اہتمام کیا اور پارلیمنٹ کی کارروائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔"

بیان کے مطابق "اس ملاقات میں حالیہ سیکیورٹی معاملات خصوصا ممبر پارلیمان زید الجنابی، ان کے رشتہ داروں اور محافظوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی پر بحث کی گئی۔"

بیان میں مزید کہا گیا "اجلاس کے شرکاء نے حکومت کو ایک قرارداد پیش کرنے پر زور دیا جس میں ملیشیائوں پر پابندی اور فرقہ وارایت کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا جائے۔"

سنی ممبر پارلیمنٹ ناہیدہ الداینی نے عالمی خبررساں ایجنسی 'اے ایف پی' کو بتایا کی کہ سنی ممبران پارلیمان نے پارلیمنٹ کے غیر معینہ مدت تک بائیکاٹ کا آغاز کردیا ہے۔