.

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ

انتہا پسند نیتن یاہو اور لیبر لیڈر اسحاق ہرتزوگ کے درمیان سخت مقابلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے لیے آج منگل کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور بائیں بازو کی جماعت صہیونیت یونین کے درمیان انتخابات میں سخت مقابلہ ہے۔

اسرائیلی پارلیمان کی ایک سو بیس نشستوں کے لیے پچیس مختلف بلاکوں اور انتخابی کے درمیان مقابلہ ہے لیکن اسرائیل میں رائج متناسب رائے دہی کے نظام انتخاب کے تحت کل ووٹوں کا تین اعشاریہ دو پانچ فی صد ووٹ حاصل کرنے والی جماعت ہی پارلیمان میں نمائندگی کی اہل ہوتی ہے۔مبصرین کے مطابق صرف گیارہ فہرستیں پارلیمان میں نمائندگی حاصل کرسکیں گی۔

قریباً ساٹھ لاکھ اسرائیلی شہری ان انتخابات میں ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ملک بھر اسکولوں ،اسپتالوں اور جیلوں میں دس ہزار تین سو بہتر پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ پولنگ مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے(گرینچ معیاری وقت 20.00بجے ) تک جاری رہے گی۔ پولنگ مکمل ہونے کے فوری بعد توقع ہے کہ اسرائیل کے میڈیا ذرائع انتخابی نتائج سے متعلق اپنے جائزے جاری کریں گے جس سے یہ اندازہ ہوسکے گا کہ کونسی جماعت برتری حاصل کررہی ہے۔

نیتن یاہو نے پولنگ سے صرف ایک روز قبل اسرائیلی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بلند بانگ دعوے کیے ہیں اور کہا ہے کہ وہ اگر دوبارہ منتخب ہوگئے تو فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دیں گے۔انھوں نے یہودی آبادکاروں کے لیے اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی سرزمین اور خاص طور پر مقبوضہ بیت المقدس میں مزید ہزاروں مکانات تعمیر کرنے کے وعدے کیے ہیں اور اسرائیلیوًں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر بائیں بازو والے جیت گئے تو صہیونی ریاست کی سلامتی خطرے سے دوچار ہوجائے گی۔

اسرائیل میں سنہ 2009ء کے بعد یہ تیسرے انتخابات ہیں اور نیتن یاہو نے خود ہی اپنے اتحادی وزراء کے مستعفی ہونے کے بعد وسط مدتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہورہے ہیں۔ وہ جیت کی صورت میں مسلسل تیسری مدت کے لیے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں لیکن انھوں نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ وہ بائیں بازو کے ساتھ مخلوط حکومت قائم نہیں کریں گے بلکہ دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنائیں گے۔

اسحاق ہرتزوگ نے سوموار کو اسرائیلی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''نیتن یاہو اس وقت حواس باختہ ہوچکے ہیں جبکہ میں اور زیپی لیفینی ملک کی بھلائی چاہتے ہیں۔ کل کا انتخاب تبدیلی اور امید اور مایوسی اور زوال کے درمیان ہے''۔

گذشتہ جمعہ کو منظرعام پر آنے والے رائے عامہ کے جاَئزوں کے مطابق پارلیمانی انتخابات میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کو اس کی حریف صہیونیت یونین کے مقابلے میں شکست کا سامنا ہو سکتا ہے اور صہیونیت یونین پارلیمان کی ایک سو بیس میں سے چھبیس نشستیں جیت سکتی ہے جبکہ نیتن یاہو کی جماعت بائیس نشتسیں حاصل کر سکے گی۔عرب جماعتوں کے اتحاد کے حصے میں تیرہ نشستیں آئیں گی۔

صہیونیت یونین اسحاق ہرتزوگ کی لیبر پارٹی اور سابق وزیرخارجہ زیپی لیفینی کی جماعت حاتنوح کے انضمام سے وجود میں آئی ہے۔رائے عامہ کے حالیہ تمام جائزوں میں اس جماعت کو انتہا پسند لیکوڈ پارٹی سے دو سے تین نشستوں کی برتری حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے انتخابی نظام کے تحت عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت ہی حکومت نہیں بناتی ہے بلکہ اگر کم نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا لیڈر بھی باقی جماعتوں کو ملا کر پارلیمان میں اپنی اکثریت ثابت کردے،تو صدر اس کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔اگر کوئی بھی جماعت یا اتحاد پارلیمان میں اپنی سادہ اکثریت (اکسٹھ نشستیں) ثابت نہ کرسکے تو دوبارہ نئے انتخابات کرائے جاسکتے ہیں۔