.

’جب بھی ضرورت پڑی، جنرل سلیمانی ہماری مدد کو حاضر ہوں گے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہروں میں دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے خلاف سرگرم اہل تشیع کے عسکری کمانڈر نے کہا ہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب کی نجی تنظیم’’القدس بریگیڈ‘‘ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہمارے مدد گار ہیں۔ ہمیں جب بھی ان کی ضرورت پڑے گے وہ ہمارے درمیان ہوں گے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق عراقی شیعہ ملیشیا کے سربراہ ھادی العامری کا کہنا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں اُنہیں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ان کامیابیوں میں ایران کی معاونت بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ عراقی ملیشیا کے سینیر رہ نما کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں عراقی فوج نے شیعہ ملیشیا کے تعاون سے شمالی شہر تکریت اور صلاح الدین گورنری میں ’’داعش‘‘ کو شکست دی ہے۔

عراقی فوج اور اور اس کی معاون عسکری ملیشیا نے تکریت کے بیشتر حصوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے مگر شہر کے مرکز میں داخل ہونے میں ان کی راہ میں داعش کی بچھائی گئی بارودی سرنگیں رکاوٹ ہیں جس کی وجہ سے آپریشن تعطل کا شکار ہوا ہے۔

عراقی ملیشیا کے عہدیدار نے’’اے ایف پی‘‘ کو بتایا کہ جنرل قاسم سلیمانی اُنہیں بہترین مشورے دے رہے ہیں جس کی بدولت داعش کے خلاف ان کی جنگ کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے اور جنرل سلیمانی اپنے مرکز میں آگئےہیں‘‘۔

شیعہ ملیشیا ’’بدر‘‘ کے سربراہ نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہمیں جب اور جہاں ضرورت پڑی وہ وہاں موجود ہوں گے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ایرانی ذرائع ابلاغ میں جنرل قاسم سلیمانی کی تصاویر سامنے آئی تھیں جن میں انہیں عراق کی صلاح الدین گونری میں عراقی فوجیوں کےہمراہ دکھایا گیا تھا۔

جنرل قاسم سلیمانی ایران کی بیرون ملک سرگرم تنظیم’’القدس بریگیڈ‘‘ کے سربراہ ہیں۔ وہ پچھلے کچھ عرصے سے شام اور عراق کے جنگی محاذوں پر بار بار دیکھے جاتےرہے ہیں۔ انہیں پاسداران انقلاب کا ایک طاقتور عہدہدار سمجھا جاتا ہے جس کے مشرق وسطیٰ میں موجود شیعہ گروپوں کے ساتھ بھی گہرے روابط ہیں۔