.

یو این مندوب کا اسرائیل سے یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے امن مندوب برائے مشرق وسطیٰ رابرٹ سیری نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو پر زوردیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی شہروں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا عمل روکنے کےلیے موثر اقدامات کریں۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق’ یو این‘ امن مندوب نے عالمی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل میں دوبارہ زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد نیتن یاھو کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کریں۔ اس مقصد کے لیے انہیں فلسطینی علاقوں میں متنازعہ یہودی بستیوں کی تعمیر کا عمل روکنا ہوگا۔

خیال رہے کہ اسرائیل میں سترہ مارچ کو ہونے والے انتخابات سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے کہا تھا کہ اگر میں دوبارہ وزیراعظم بنا تو فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دوں گا۔ نیتن یاھو کے اس بیان پر امریکا کی جانب سے بھی سخت برہمی کا اظہار کیا گیا اور اس اعلان نے صدر اوباما اور نیتن یاھو کےدرمیان تعلقات مزید کشیدہ کردیے تھے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر رابرٹ سیری کا کہنا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں یہودی کالونیوں کی تعمیر اور توسیع غیرقانونی ہے اور یہ سلسلہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے حوالے سے دو ریاستی حل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’مجھے نہیں معلوم کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نے یہودی بستیوں کی تعمیر پرپابندی نہ لگائی توفریقین میں اعتماد سازی کا عمل بحال ہوسکے گا یا نہیں۔ میں نہیں جانتا کہ وقت ہاتھ سے نکل گیا ہے تاہم قیام امن کی خاطر اسرائیل کو یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے‘‘۔

رابرٹ سیری نے مزید کہا کہ اسرائیل کی نئی حکومت فلسطینیوں کے ساتھ قیام امن کے اقدامات کو یقینی بنائے تاکہ پوری دنیا پر یہ واضح ہو کہ اسرائیل مسئلہ فلسطین کے حل اور فلسطینی ریاست کے قیام میں عملی اقدامات کررہا ہے۔

یو این عہدیدار کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کے انتخابات سے قبل کے بیانات مشکوک تھے جس سے دو ریاستی حل کے اسرائیلی عزم کے بارے میں بھی کئی قسم کے خیالات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل دونوں اب بھی مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں مگر وہ براہ راست مذاکرات سے کافی دور ہوچکے ہیں۔ دونوں کو اعتماد سازی کے لیے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن کی مدد سے براہ راست امن بات چیت دوبارہ شروع کی جاسکے۔