قاہرہ :پل پر بم دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں دریائے نیل کے ایک پل پر بم دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اتوار کو بم دھماکا قاہرہ کے علاقے الزمالک کی جانب جانے والے پل پر ہوا ہے۔بم کی نوعیت کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔بعض ذرائع نے بتایا ہے کہ بم سڑک پر نصب کیا گیا تھا اور بعض کے مطابق بم ایک کار میں نصب تھا۔زخمیوں میں ایک شہری اور دو پولیس اہلکار ہیں۔
ہفتے کے روز قاہرہ کے رہائشی علاقے امبابا میں ایک پولیس اسٹیشن کے نزدیک دو بم دھماکے ہوئے تھے لیکن ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔کسی گروپ نے ان دونوں بم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن ماضی میں اجناد مصر نامی جنگجو گروپ دارالحکومت قاہرہ ،اسکندریہ اور دوسرے شہروں میں سکیورِٹی فورسز پر بم حملوں کی ذمے داری قبول کرتا رہا ہے۔
حالیہ مہینوں کے دوران قاہرہ اور دوسرے شہروں میں بم دھماکوں میں کوئی زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا ہے لیکن غزہ کی پٹی اور اسرائیل کی سرحد کے نزدیک واقع جزیرہ نما سیناء میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) سے وابستہ جنگجو گروپ انصار بیت المقدس نے مصری سکیورٹی فورسز پر تباہ کن بم حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں سیکڑوں پولیس اہلکار اور فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔
صوبہ سیناء کے نام سے گروپ کے جنگجو جولائی 2013ء میں مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی مسلح افواج کے سابق سربراہ اور اب صدر عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے جزیرہ نما سیناء میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر بم حملے کررہے ہیں۔29 جنوری کو اس جنگجو گروپ نے شمالی سیناء کے مختلف شہروں میں پے درپے بم حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں تیس سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔ایک دن میں مصری سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔