.

داعش کا عراق کی سب سے بڑی آئیل ریفائنری پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) نے عراق کی شمالی شہر بیجی میں واقع سب سے بڑی آئیل ریفائنری پر قبضے کے لیے متعدد خودکش بم حملے کیے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ صوبہ صلاح الدین میں واقع تیل صاف کرنے کے کارخانے کی عمارت کے اندر گھس گئے ہیں لیکن عراقی فوج کا کہنا ہے کی اس کا ریفائنری پر کنٹرول برقرار ہے۔

عراقی فوج کے ایک میجر جنرل نے داعش کے حملے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ ان کا اب تک سب سے خطرناک حملہ ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے تین اطراف سے کمپلیکس پر حملہ کیا تھا اور انھوں نے جنوب سے ریفائنری کے ملازمین کی کالونی ،مغرب سے ملازمین اور مشرق سے ایک چھوٹے پلانٹ پر حملہ ہے۔انھوں نے پہلے دھماکے کیے اور اس کے بعد فائرنگ شروع کردی۔

اس فوجی افسر کے بہ قول تین خودکش بمبار ریفائنری کے داخلی دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ان میں سے دو کو ہلاک کردیا گیا اور ایک وہاں خود کو دھماکے سے اڑانے میں کامیاب ہوگیا۔اس افسر کا کہنا ہے کہ ریفائنری کی حفاظت پر مامور عراقی فورسز نے داخلی دروازوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے اور اس وقت پوری جگہ حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

داعش نے انٹرنیٹ پر بیجی میں ریفائنری پر حملے کی تصاویر جاری کی ہیں۔ان میں ان کا عراقی فوج سے چھینی گئی حموی گاڑیوں کا قافلہ داخلے دروازے پر حملہ کررہا ہے اور وہ اس تنصیب کی عمارت کے اندر نظر آرہے ہیں۔عراقی فوج کے افسر کا کہنا ہے کہ فضائی حملے میں بیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں لیکن ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ سال جون میں عراق کے شمالی شہروں پر چڑھائی کے وقت بھی بیجی کا حملہ کیا تھا لیکن وہ اس پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔تاہم انھوں نے کئی ہفتے تک اس کا محاصرہ کیے رکھا تھا اور امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں کے بعد عراقی فورسز داعش کے جنگجوؤں کو آئیل ریفائنری اور بیجی شہر سے پسپا کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔

بیجی ریفائںری میں ماضی میں تین لاکھ بیرل تیل صاف کیا جاتا رہا ہے جو ملک کی پچاس فی صد ضروریات کو پورا کرتا تھا لیکن اب داعش کے پے درپے حملوں کے بعد اس کی پیٹرولیم کی مصفا مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوچکی ہے۔