حماس سے اختلاف، فلسطینی وزراء کا دورہ غزہ مختصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مقبوضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے فلسطینی وزراء نے پیر کے روز فلسطینی جماعتوں تحریک فتح اور حماس کے درمیان تنازعات کی وجہ سے اپنے دورے کو مختصر کردیا۔

اس دورے کو مختصر کرنے کے فیصلے سے فلسطین میں متحدہ حکومت کو لاحق خطرات کا اندازہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں تباہ حال فلسطین کی تعمیر نو کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

غزہ کے فلسطینیوں نے امید ظاہر کی تھی کہ فلسطینی صدر محمود عباس کی سربراہی میں کام کرنے والی جماعت فتح اور غزہ کی حکمران جماعت حماس 40 ہزار سرکاری افسران کی تنخواہوں کا معاملہ طے کرلیں گے۔

اس معاملے کے ختم ہونے پر ہی محمود عباس کی حکومت غزہ کی کراسنگز کا کنٹرول سنبھالے گی اور اس کے نتیجے میں غزہ میں تباہ ہونے والے دسیوں ہزاروں گھروں کی تعمیر ومرمت کے لئے سامان شہر میں پہنچایا جاسکے گا۔

حکومت کے 11 رکنی وفد کے ایک قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ حماس کے زیر انتظام سیکیورٹی افسران نے وزراء کو غزہ کے ساحل پر واقع ایک ہوٹل میں جانے سے روک دیا جس کے نتیجے میں وفد نے اپنے دورے کا دورانیہ ایک ہفتے سے کم کر 24 گھنٹے کر دیا۔

ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا "حماس نے اس دورے کو خراب کردیا ہے، اس نے وزراء کو ان کے منصوبے پر عمل نہیں کرنے دیا جس کے نتیجے میں غزہ کی مصیبتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔"

فلسطینی حکومت کے سیکریٹری جنرل علی ابو دیاک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حماس نے ان کے کام میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ دیاک نے الزام لگایا "حماس قانون کا احترام نہیں کرتی ہے۔"

حماس کے ترجمان سامی ابو زھری نے ان الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ مغربی کنارے کے وزراء اپنے دفاتر میں جانے کی بجائے ہوٹل میں موجود سینئیر عملے سے ملاقات کے لئے جارہے تھے۔

ابو زھری نے کہا کہ حماس کو تںخواہوں کی ادائیگی کے معاملے کے حل کے لئے بنائی گئی کمیٹیوں میں شامل نہیں کیا گیا ہے اور ان کمیٹیوں میں فتح کے اراکین کی تعداد زیادہ ہے۔

حماس ترجمان کا کہنا تھا "ہم حکومت پر زور دیتے ہیں وہ تعصب کے ایک طرف رکھتے ہوئے غزہ کے ملازمین کی ذمہ داری اٹھائے۔"

اسی تناظر میں فلسطینی وزیر خزانہ شکری بشارہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فراہم کیا جانے والے ٹیکس کے پیسوں سے فلسطینی ملازمین کو چار ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہوجائیگی۔

اسرائیل نے محمود عباس کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت میں شمولیت پر فلسطینیوں کو ٹیکس کی ادائیگی روک رکھی تھی اور اب بین الاقوامی برادری کے دبائو کے تحت یہ رقم ادا کی جارہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں