.

حزب اللہ کو عوامی حمایت، افرادی قوت میں کمی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کو کچلنے کے لیے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے اپنی پوری افرادی قوت جھونک رکھی ہے جس کے نتیجے میں آج حزب اللہ غیرمعمولی افرادی قوت کی قلت کا شکار نظر آتی ہے۔

العربیہ ٹی وی نے ماہرین کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ موجودہ حالات اور ناساز گار ماحول میں حزب اللہ کو نئے جنگجوئوں کی بھرتی میں غیرمعمولی بحران کا سامنا ہے۔

’’لبنان الجدید‘‘ نامی ایک ویب سائٹ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وادی البقاع لبنان میں حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ حال ہی میں حزب اللہ نے وہاں سے 600 جنگجوئوں کو تنظیم میں شمولیت کی دعوت دی لیکن تنظیم کا مرکز ہونے کے باوجود وہاں سے صرف 150 افراد نے حزب اللہ میں شمولیت اختیار کی۔

رپورٹ کے مطابق حزب اللہ نےحال ہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو تنظیم میں شامل افراد کے منحرف ہونے اور مزید لوگوں کے تنظیم میں آنے سے گریز کے اسباب پر تحقیقات کر رہی ہے۔ حزب اللہ کو اس بات پربھی حیرت ہے کہ وہ اپنے جنگجوئوں کو بھاری معاوضے بھی ادا کرتی ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اس سے دور کیوں ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ حزب اللہ کو جنگجوئوں کو بھرتی کرنے میں مشکلات پیش آنے کی بنیادی وجہ تنظیم کا خطے بالخصوص شام کی جنگ میں کودنا ہے۔ کیونکہ لبنان کے عوام حزب اللہ کے شام کی جنگ میں شمولیت کے قطعی خلاف ہیں۔ تنظیم کو سنجیدہ اور تجربہ کار جنگجوئوں کی قلت کے بعد اب کم عمر افراد پرانحصار کرنا پڑ رہا ہے اور افرای قلت کو دور کرنے کے لیے کم عمر افراد کو پھنسایا جا تا ہے۔

وادی البقاع سے حزب اللہ کی عوامی حمایت میں کمی کی بنیادی وجہ وہاں کےسیکڑوں شہریوں کی شام کی جنگ میں ہونے والی اموات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وادی البقاع کے عوام بیرون ملک اپنے بچوں کو کسی جنگ میں نہیں جھونکنا چاہتے۔ شام کے محاذ جنگ پرجانے اور بدترین انجام سے دوچار ہونے والے جنگجو ان کے سامنے ہیں۔
شام میں القلمون کے معرکے میں حزب اللہ کو اپنے جنگجوئوں کی قلت کا اندازہ اس وقت ہوا جب برفانی چوٹیوں پر لڑائی کے دوران بڑی تعداد میں جنگجو مارے گئے اور انہیں بچانے کے لیے مزید جنگجوئوں کی کمک نہ پہنچائی جا سکی۔