.

حسن نصراللہ کے بیان پر حزب اللہ کے حامیوں میں تنازع

جنگ صفین سے متعلق حزب اللہ کے رہنما کا بیان وجہ نزاع بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے نام منسوب ایک بیان ان دنوں تنظیم کے حامی سمجھے جانے والے ابلاغی اداروں میں ایک نئے تنازع کا باعث بنا ہے۔ چند روز قبل حزب اللہ کے مقرب جریدے "الاخبار" نے حسن نصراللہ کے نام منسوب ایک بیان شائع کیا جس میں کہا گیا تھا کہ "جنگ صفین کی تکمیل ہمارا فرض ہے، جس نے جنگ صفین میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا وہ فتح مند ہوگا۔"

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حسن نصراللہ کا یہ متنازعہ بیان حال ہی میں "یوم الجریح" کے موقع پر سامنے آیا۔ جریدے کے مطابق حسن نصراللہ نے یہ بات بند کمرہ اجلاس میں کہی تھی۔ تاہم حزب اللہ کے ترجمان سمجھے جانے والے عربی ٹی وی "المنار" نے "الاخبار" میں شائع بیان کی اصلاح کی کوشش کی ہے۔ ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الشیخ حسن نصراللہ کا معرکہ صفین سے متعلق جو بیان شائع ہوا اسے سیاق وسباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا۔ حزب اللہ سربراہ کی جانب سے معرکہ صفین کی تکمیل کے لیے "کال اپ" نہیں دی گئی۔

ٹی وی رپورٹ میں حسن نصراللہ کے بند کمرہ اجلاس کے کچھ دوسرے بیانات بھی شامل کیے ہیں۔ اسی بیان میں وہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان اختلافات کے خاتمے پر پریشانی کا اظہار کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "سب ہمارے خلاف متحد ہوگئے۔" نیز اب حالات بڑی قربانی کا تقاضا کر رہے ہیں۔ اگر ہمت اور جذبہ بیدار ہوتو ہم ان کی ہڈیاں توڑ دیں گے۔ جو بھی ہمارے ان عرب دشمنوں کے بارے میں بات نہیں کرتا وہ خائن اور بزدل ہے۔ امریکی سفارت خانوں میں کام کرنے والے شیعہ حضرات بدیانت اور بزدل ہی نہیں بلکہ دشمن کے ایجنٹ بھی ہیں۔"

اخباری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ حسن نصراللہ نے کہا کہ "معرکہ صفین کی تکمیل کے لیے میں اعلان عام کرنے والا ہوں" لیکن ٹی وی رپورٹ میں ان کی اس بات کو سیاق وسباق سے ہٹا کر پیش کیے جانے کا تاثر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لیڈر کے اس متنازعہ بیان کے باعث تنظیم کے حامیوں کو بھی ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔