داعش: تدمر کے تاریخی آثار نہیں،صرف مجسمے ڈھائیں گے
عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) نے ایک فوٹیج جاری کی ہے جس میں شام کے قدیم شہر تدمر میں تاریخی عمارات کے آثار جوں کے توں برقرار دکھائی دے رہے ہیں۔اس جنگجو گروپ نے کہا ہے کہ وہ صرف مجمسوں کو مسمار کرے گا کیونکہ یہ اس کے نزدیک بت پرستی کے زمرے میں آتے ہیں۔
تدمر میں پہلی صدی عیسوی کے گرجا گھر اور رومی تھیٹر کے آثار پائے جاتے ہیں۔ داعش نے 26 مئی کو یوٹیوب پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی تھی۔اس میں تدمر کی قدیم تاریخی عمارات اور بلندو بالا ستونوں کے آثار بالکل صحیح سلامت دیکھے جاسکتے ہیں۔البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ویڈیو کب فلمائی گئی تھی۔
داعش نے 21 مئی کو شامی فوج کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد اس تاریخی شہر پر قبضہ کیا تھا۔انھوں نے اسی ہفتے شہر میں شامی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے والے بیس غیرملکی جنگجوؤں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔
شام کے سرکاری میڈیا نے قبل ازیں یہ اطلاع دی تھی کہ داعش کے جنگجوؤں نے تدمر پر قبضے کے بعد کم سے کم چار سو افراد کو موت سے ہم کنار کیا ہے۔ان میں سے بیشتر افراد کو سروں میں گولیاں ماری گئی تھیں اور بعض کے سرقلم کردیے گئے تھے۔
تدمر سے تعلق رکھنے والے ایک حکومت مخالف کارکن کا کہنا ہے کہ داعش نے تاریخی آثار ونوادر کو اب تک کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے اور انھوں نے شہر کے مکینوں سے کہا ہے کہ وہ صرف مجسموں ہی کو مسمار کریں گے کیونکہ وہ انھیں بت پرستی کی علامتیں سمجھتے ہیں۔
تدمر سے تعلق رکھنے والی عوامی مزاحمتی کمیٹی کے اس رکن نے برطانوی اخبار گارجین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''تدمر کے تاریخی آثار اور نوادر ستونوں اور بڑی بڑی عمارتوں کی شکل میں ہیں اور وہ لوگوں کے مجسمے نہیں ہیں،ان مجسموں کو داعش بُت خیال کرتے ہیں اور انھیں تباہ کیا جانا چاہیے جبکہ دوسرے نوادرات سے انھیں کوئی مسئلہ نہیں ہے''۔
شامی حکومت کے مخالف ایک ایف ایم ریڈیو اسٹیشن علوان نے اپنی ویب سائٹ پر ابواللیث السوادی نامی ایک فوجی کمانڈر کا آڈیو انٹرویو شائع کیا ہے۔یہ صاحب تدمر میں داعش کے فوجی کمانڈر ہیں اور انھوں نے بھی یہ وعدہ کیا ہے کہ شہر کی تاریخی عمارات کو مسمار نہیں کیا جائے گا اور صرف مجسموں کو تباہ کیا جائے گا۔
یہ صاحب اپنی آواز میں کہہ رہے ہیں :''جہاں تک اس تاریخی شہر کا تعلق ہے تو ہم اس کو محفوظ رکھیں گے۔ان شاء اللہ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ہم صرف بُتوں کو توڑیں گے جن کی کافر لوگ پوجا کیا کرتے تھے''۔اس کمانڈر کا مزید کہنا تھا کہ ''تاریخی عمارتوں کو کوئی خراش تک نہیں آئے گی اور جیسا کہ بعض لوگ یہ خیال کررہے ہیں،ہم ان عمارتوں کو ڈھانے کے لیے بالکل بھی بلڈوزر نہیں لائیں گے''۔
-
شامی فضائیہ کی داعش کے زیر قبضہ تدمر پر بمباری
شامی فوج کے لڑاکا طیاروں نے داعش کے زیر قبضہ قدیم شہر تدمر اور اس کے نواح میں ...
مشرق وسطی -
داعش کا شام کے تاریخی شہر تدمر پر مکمل قبضہ
صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور اتحادی ملیشیائیں لڑائی میں شکست کے بعد پسپا
مشرق وسطی -
داعش کا تدمر پر قبضے کے بعد آدھے شام پر کنٹرول
شامی فوج اور اس کے اتحادی جنگجو پسپا ہوتے ہوئے لاشیں چھوڑ گئے
مشرق وسطی -
داعش کا شام کے تاریخی شہر تدمر پر راکٹوں سے حملہ
داعش کے جنگجوؤں نے شام کے تاریخی شہر تدمر کے رہائشی علاقے پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے ...
مشرق وسطی -
شام: داعش نے تدمر کے قریب 23 شامیوں کو قتل کر ڈالا
انتہاپسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' سے تعلق رکھنے والے جنگجوئوں نے شام ...
مشرق وسطی -
داعش تاریخی شہر’’تدمر‘‘ سے محض دو کلو میٹرکی مسافت پر!
شام میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق سخت گیر تنظیم دولت ...
مشرق وسطی