.

ایرانی جنرل فلوجہ کی شیعہ ملیشیا میں نمودار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ذرائع ابلاغ کی توجہ کا خاص مرکز رہنے والے ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو حال ہی میں عراق کے شہر فلوجہ میں شیعہ ملیشیا حشد الشعبی کے جنگجوئوں کے درمیان دیکھا گیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سماجی کارکنوں نے انٹرنیٹ پر جنرل قاسم سلیمانی کی فلوجہ میں شیعہ ملیشیا کے ہمراہ لی گئی تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ یہ تصاویر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بغداد حکومت نے شیعہ ملیشیا کو فلوجہ میں سُنی شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کا ٹاسک دیا ہے۔

واضح رہے کہ عراقی حکومت فوج کے ساتھ ساتھ حشد الشعبی نامی شیعہ ملیشیا سے بھی دولت اسلامی "داعش" کے خلاف آپریشن میں مدد حاصل کر رہی ہے۔ عراقی فوج کی طرح حشد الشعبی کو بھی ایران کی جانب سے بھرپور معاونت حاصل ہے۔ اس کی تازہ مثال جنرل قاسم سلیمانی کی "حشد الشعبی" کے جنگجوئوں کے ہمراہ دیکھا جانا بھی ہے۔

عراق میں "داعش" کے ظہور سے قبل بھی جنرل قاسم سلیمانی کو جنگی محاذوں پر دیکھا گیا ہے۔ سابق عراقی صدر صدام حسین کے خلاف لڑائی کے دوران بھی جنرل سلیمانی تکریت اور سامراء جیسے شہروں میں جنگجوئوں کے ہمراہ لڑائی میں حصہ لے چکے ہیں۔ ایران، شام اور عراق میں جاری شورش کو خطے میں اپنے مفادات کے خلاف خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہران حکومت کی جانب سے عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں بھرپور مادی اور معنودی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔