.

شامی القاعدہ کی قیدی خواتین کے بدلے لبنانی فوجیوں کی رہائی کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام مِیں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ نے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے سربراہ کی سابقہ اہلیہ سمیت پانچ خواتین قیدیوں کے بدلے میں تین لبنانی فوجیوں کی رہائی کی پیش کش کی ہے۔

النصرۃ محاذ اور داعش نے گذشتہ ایک سال سے پچیس لبنانی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔انھوں نے لبنان کے ایم ٹی وی سے ہفتے کی شب نشر کیے گئے ایک پروگرام میں لبنان کو قیدیوں کے تبادلے کی پیش کش کی ہے۔

شام کے لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع پہاڑی علاقے قلمون میں النصرۃ محاذ کے امیر ابو مالک الشامی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اگر ہماری پانچ بہنوں کو جیلوں سے رہا کردیا جاتا ہے تو ہم اس کے بدلے میں تین فوجیوں کو رہا کردیں گے''۔

ان پانچ خواتین قیدیوں میں داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی سابقہ اہلیہ سجی الدلیمی اور النصرہ کے ایک لیڈر کی اہلیہ بھی شامل ہیں۔سجی الدیلمی کو گذشتہ سال لبنان کے سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔اس خاتون کے پس منظر کے بارے میں اب تک مختلف رپورٹس منظرعام پر آچکی ہیں۔ان کا خاندان عراق اور شام میں مقیم ہے اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گرفتاری کے وقت داعش سے زیادہ النصرۃ محاذ کے قریب تھیں۔

لبنانی حکام نے تب بتایا تھا کہ زیر حراست سجی الدلیمی ابوبکر البغدادی کی بیوی نہیں تھیں۔اس خاتون کی تین شادیاں ہوئی تھیں۔پہلی شادی سابق عراقی حکومت کے ایک عہدے دار سے ہوئی تھی اور اس سے اس کے دو بیٹے ہیں۔گرفتاری کے وقت وہ ایک فلسطینی مرد کی منکوحہ تھیں اور وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی تھیں۔ عراقی حکومت کے ایک ترجمان نے وضاحت کی تھی کہ اس وقت ابوبکر البغدادی کی دو بیویاں ہیں اور ان میں کسی کا نام سجی الدلیمی نہیں ہے۔داعش کے خلیفہ کی ایک اہلیہ کا نام فوزی محمد الدلیمی اور دوسری کا نام اسراء رجب القیسی بتایا گیا تھا۔

ایم ٹی وی نے ابو مالک الشامی کا مذکورہ انٹرویو لبنانی خاندانوں کی النصرۃ محاذ کے زیر حراست اپنے پیاروں سے ملاقات کے دوران قلمون کے پہاڑی علاقے میں ایک غار میں ریکارڈ کیا تھا۔اس میں ابو مالک شامی کا چہرہ نہیں دکھایا گیا ہے۔

چینل نے لبنان کے زیرحراست فوجیوں سے ان کے والدین ،بیویوں اور بچوں کی تین گھنٹے تک ملاقات کی فوٹیج نشر کی ہے۔اس میں تمام یرغمالیوں کی لمبی لمبی ڈاڑھیاں ہیں اور وہ ایک خیمے کے اندر بیٹھے ہوئے تھے۔ملاقات کے دوران ان کے عزیز واقارب اپنے آنسوؤں کو ضبط نہ رکھ سکے اور وہ روتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ داعش اور النصرۃ محاذ نے اگست 2014ء میں لبنان کے ایک سرحدی قصبے عرسال میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران پچیس فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا تھا۔ان میں سے اس وقت سولہ النصرۃ محاذ کی قید میں ہیں اور باقی داعش کے زیر حراست ہیں۔

ان کی گرفتاری کے بعد سے النصرۃ اور داعش لبنان سے جیلوں میں قید اسلامی قیدیوں کی رہائی اور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے شام سے انخلاء کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ایران کی حمایت یافتہ طاقتور شیعہ ملیشیا کے جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں النصرۃ محاذ اور دوسرے باغی جنگجو گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں اور اب تک اس تنظیم کے سیکڑوں جنگجو لڑائی میں کام آ چکے ہیں۔