.

دوما حملے پر تنقید،شامی حکومت عالمی ایلچی پر برس پڑی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا پر متعصب ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے شامی طیاروں کے دمشق کے نواح میں واقع شہر دوما پر فضائی حملے کی مذمت کرکے جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے۔

ڈی مستورا نے سوموار کو ایک بیان میں شامی فوج کے دمشق کے مشرق میں واقع باغی گروپ جیش الاسلام کے زیر قبضہ شہر دوما میں ایک مصروف بازار پر فضائی حملے کی مذمت کی تھی۔اس حملے میں ایک سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

شامی حکومت نے ان کی تنقید کے ردعمل میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ مستورا کا بیان معروضیت سے بہت دور ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے محض اس پروپیگنڈے پر انحصار کیا ہے جو شام مخالف حلقوں میں پھیلایا جاتا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان کے مطابق حکومت نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ مستورا مسلح دہشت گرد گروپوں کی جانب سے حلب ،اللاذقیہ اور درعا میں گولہ باری اور القاعدہ طرز کے گروپ کے ہاتھوں قتل عام کی بھی مذمت کریں گے۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ شامی حکومت نے ڈی مستورا پر متعصب ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔وہ ان سے قبل بھی شام کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندوں پر متعصب ہونے کے الزامات عاید کرچکی ہے۔

شام کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ڈی مستورا کے شامی تنازعے کے حل کے لیے امن مذاکرات کی بحالی سے متعلق نئے منصوبے کی توثیق کی ہے۔اس کے تحت ملک میں جمہوری انتخابات کے انعقاد سے قبل سیاسی انتقال اقتدار سے متعلق بھی مذاکرات کیے جائیں گے۔