'غرب اُردن کی سیادت اسرائیل کا حق، تعمیرات جاری رہیں گی'
اسرائیل کے صدر رئوف ریفلین نے ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے پر صہیونی ریاست کی بالا دستی کا حق جتلاتے ہوئے عرب شہروں میں یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی صدر کا یہ بیان جو انتہا پسندی اور اشتعال انگیزی سے بھرپور ہے گذشتہ روز اس وقت سامنے آیا جب یہودی کالونیوں کے نمائندوں کے ایک وفد نے تل ابیب میں ان سے ملاقات کی۔
اسرائیلی ایوان صدر کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہودی کالونیوں کے نمائندگان سے بات کرتے ہوئے صدر ریفلین نے کہا کہ غرب اردن کے تمام شہروں کی سیادت اسرائیل کا حق ہے اور ہم ان علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا کام جاری رکھیں گے۔ مغربی کنارے کے علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے معاملے میں کسی قسم کا سیاسی تنازع نہیں ہونا چاہیے۔ یہ علاقے اسرائیل کاحصہ ہیں اور ان پر اسرائیل کی بالادستی قائم رہے گی۔ صہیونی صدر کا کہنا تھا کہ سنہ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے جن علاقوں کو فتح کیا تھا، وہ بھی ارض اسرائیل کا حصہ ہیں۔
خیال رہے کہ سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب۔اسرائیل جنگ کے دوران صہیونی ریاست کے غاصبانہ قبضے میں چلے گئے عرب شہروں کو عالمی سطح پر متنازع علاقے سمجھا جاتا ہے اور ان علاقوں بالخصوص فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یہودی بسیتوں کی تعمیر کو بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے۔ مگر اس کے باوجود اسرائیلی سیاسی قیادت اپنی ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی پر قائم ودائم ہے۔
صدرر یفلین کا یہ متنازع بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی اتھارٹی اور صہیونی حکومت کے درمیان کئی ایک معاملات پر سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ کشیدگی کے دیگر محرکات میں ایک بڑی وجہ اکتیس جولائی کو غرب اردن کے نابلس شہر میں دوما کے مقام پرایک فلسطینی خاندان کو زندہ جلائے جانے کا وحشیانہ واقعہ بھی بنا ہے۔ مبینہ طور پر یہودی شرپسندوں نے ایک فلسطینی خاندان کو رات کے وقت سوتے میں زندہ جلانے کی کوشش کی تھی اور آتش گیر مواد چھڑک کر مکان کو آگ لگا دی تھی، جس کے نتیجے میں اٹھارہ ماہ کا ایک بچہ جل کر شہید اور اس کے والدین اور ایک بھائی بری طرح جھلس گئے تھے۔ بعد ازاں شہید بچے کا والد بھی اسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔
یہودی انتہا پسندوں کی اس وحشیانہ کارروائی کے بعد فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان سخت کشیدگی کی فضاء پائی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کی طرح صدر رئوف ریفلین بھی پرتشدد نظریات کے حامل ہیں۔ ان کا تعلق اسرائیل کی دائیں بازو کی حکمراں جماعت "لیکوڈ" سے اور اس کی بیشتر قیادت آزاد فلسطینی ریاست کی کھلم کھلا مخالفت کرتی آ رہی ہے۔ اسرائیلی صدر کا کہنا ہے کہ غرب اردن کا جو بھی اسٹیٹس رہے مگر اس پر اسرائیل کی بالادستی قائم رہے گی تاہم وہاں کے فلسطینی چاہیں تو اسرائیلی شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔