.

داعش کے صف اول کے پانچ مدارالمہام جنگجوئوں کا تعارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام اور#عراق کے وسیع علاقے پر قابض دولت اسلامیہ "#داعش" کی سرکوبی کے لیے اس وقت کئی ممالک سرگرم ہیں مگر ابھی تک نہ صرف تنظیم کا بنیادی ڈھانچہ قائم ہے بلکہ تنظیم کی مرکزی قیادت بہ شمول داعشی خلیفہ ابو بکر #البغدادی کو بھی نقصان نہیں پہنچایا جاسکا ہے۔ اگرچہ عراقی حکومت اور امریکی فوج کی جانب سے داعش کی صف اول کی قیادت کے قافلوں کو بمباری سے نشانہ بنانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں مگر ان حملوں میں داعش کو کتنا جانی نقصان پہنچایا گیا اس کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اتوار کو عراقی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کی فوج نے #الانبار کے کربلہ علاقے میں "داعش" کے ایک قافلے کو نشنانہ بنایا گیا ہے۔ ممکنہ طور پر اس قافلے میں داعشی خلیفہ البغدادی اور ان کے نہایت قریبی حلقے کے جنگجو شامل تھے۔ عراقی انٹیلی جنس حملے میں داعش کو پہنچنے والے نقصان کی تحقیقات کررہی ہے۔

"فاکس نیوز" ٹی وی چینل کی رپورٹ میں امریکی عسکری ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ الکربلہ کے مقام پر عراقی فوج کے حملے میں البغدادی سمیت داعش کا کوئی مرکزہ رہ نما زخمی نہیں ہوا ہے تاہم عراقی حکام حادثے کے مقام سے DND کے نمونے حاصل کرنے کے بعد ان کی تحقیقات کررہے ہیں۔ عراقی حکام کے بہ جس قافلے کو بمباری سے نشانہ بنایا گیا ہے وہ داعشی خلفیہ کے قافلے کے اندز میں الکربلہ کی طرف رواں دواں تھا۔

عراقی حکومت کی طرف سے اس طرح کے دعوے ماضی میں بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ ان میں نومبر 2014ء میں البغدادی کے قافلے کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کی تحقیقات بھی ہنوز پردہ راز میں ہیں۔ اس سے قبل مارچ 2014ء میں بھی نینویٰ میں البلعاج کے مقام پر داعشی خلیفہ کے قافلے کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم اس حملے کی تحقیقات بھی سامنے نہیں آسکیں۔

اس نوعیت کا جب بھی کوئی حملہ کیا گیا تو داعش کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس کی تردید میں غیرمعمولی پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے۔ داعشی جنگجوئوں کا کہنا ہے کہ خلیفہ البغدادی کے مارے جانے کے بعد بھی "داعش" موجود رہے گی۔ اسے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

البغدادی کے مقربین کے حوالے سے بہت کم تفصیلات ذرائع ابلاغ تک پہنچتی ہیں۔ تاہم حال ہی میں برطانوی اخبار "ڈیلی اسٹار" نے البغدادی کے پانچ قابل اعتماد اور نہایت قریبی ساتھیوں کا تعارف شائع کیا ہے۔

العفری

پچھلے سال مارچ میں عراقی حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ نینویٰ کے مقام پر داعشی خلیفہ البغدادی کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس میں ممکنہ طور پر البغدادی بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ عراقی حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ البغدادی کے زخمی ہونے کے بعد داعش نے علاء العفری نامی دوسرے داعشی کمانڈر کو خلیفہ کا نام مقرر کیا ہے۔

علاء العفری کا اصل نام عبدالرحمان مصطفیی القادولی ہے۔ العفری عراق کی موصل گورنری میں فزکس کا استاد رہ چکا ہے اور اس کا شمار چوٹی کے دہشت گردوں میں ہوتا ہے۔ اس نے سنہ 1998ء میں افغانستان کے سفر کے دوران عسکری تربیت حاصل کی اور اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ میں سرگرم رہا۔ سنہ 2004ء میں وہ افغانستان سے عراق لوٹا۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ العفری القاعدہ میں اسٹریٹجک نوعیت کے معرکوں کا ماسٹر مائینڈ تھا۔ پچھلے سال مئی میں عراقی فوج کی جانب سے ایک فضائی حملے میں اس کے مارے جانے کا بھی دویٰ کیا گیا تھا تاہم امریکا نے العفری کی ہلاکت کی تردید کی تھی۔

الانباری

داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی کے مقربین میں دوسرا نام ابو علی الانباری کا ملتا ہے۔ الانباری شام میں البغدادی کا نائب ہے اور اس کے براہ راست البغدادی سے رابطے ہیں۔ داعش میں اہم ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تنظیم کی مرکزی شوریٰ کا رکن، البغدادی کا خصوصی ایلچی اور "الخلافہ" کی انتظامی کونسلوں کا انچارج ہے۔

داعش سے منحرف ہونے والے جنگجوئوں کا بتانا ہے کہ الانباری نامی جنگجو کمانڈر تنظیم میں انٹیلی جنس کونسل، سیکیورٹی اور شام میں ہونے والی تمام آپریشنل کارروائیوں کا بھی انچارج ہے۔

الانباری کا رہائشی تعلق موصل سے ہے تاہم اس نے اپنے نام کے ساتھ موصل کے بجائے الانبار کا لاحقہ شامل کیا ہے۔ وہ امریکا کے عراق پر صدام حسین کے خلاف کیے گئے آپریشن کے دوران عراقی فوج میں خدمات انجام دے چکا ہے۔ عراق پرامریکی قبضے کے بعد الانباری نے "انصارالاسلام" نامی گروپ میں شامل ہوگیا۔ بعد ازاں یہی تنظیم ابو مصعب الزرقاوی کی قیادت میں "دولت الاسلامی العراق والشام" کے نام میں تبدیل ہوگئی تھی۔

الشیشانی

داعشی خلیفہ کے مقربین خاص کے حلقے میں شمالی شام کے ابو عمر الشیشانی نامی کمانڈر بھی سر فہرست ہیں۔ ابو عمر الشیشانی تنظیم کی مجلس شوریٰ کے رکن، اسٹریٹیجک کارروائیوں کے ماہر اور عراق میں تنظیم کا نیٹ ورک پھیلانے کے ماسٹر مائینڈ سمجھے جاتے ہیں۔

الشیشیانی #امریکا کی بلیک لسٹ میں شامل ہے اور اسے دنیا کے خطرناک ترین دہشت گردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر امریکا نے الشیشانی کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔

ابو عمر الشیشیانی کا اصل نام "طارخان طایومورازفیٹچ ہے اور اس کا والد عیسیٰ جب کہ والدہ مسلمان تھی جس کا تعلق جارجیا سے تھا۔

الشیشانی کو کچھ عرصہ قبل جارجیا میں غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔ جیل میں اس نے انتہا پسندانہ خیالات اپنائے اور رہائی کے بعد شام میں سرگرم داعش میں شامل ہوگیا۔

العدنانی

ابومحمد العدنانی کا حقیقی نام طہ صبحی فلاحہ بتایا جاتا ہے۔ العدنانی داعش کا ترجمان اور نہایت بااثر شخص سمجھا جاتا ہے۔ داعش کے قیام کا اعلان سب سے پہلے اسی نے پڑھ کر سنایا اور البغدادی کو تنظیم کا خلیفہ بنانے کا بھی اعلان کیا۔

العدنانی کا آبائی شہرادلب ہے۔ کئی دوسرے سرکردہ جنگجئوں کی طرح العدلانی بھی عراق اور افغانستان میں القاعدہ میں شامل رہا ہے۔ عراق میں سرگرم رہتے ہوئے وہ پانچ سال تک قید بھی رہ چکا ہے۔ رہائی کے بعد اس نے دوبارہ شدت پسندوں میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

العدنانی کے کمالات میں عسکری پسندوں کو متحد کرنا بھی شمل ہے۔ سنہ 2013ء میں العدنانی نے مغربی ممالک کے شہریوں کو داعش میں شمولیت کی دعوت دی جس کے بعد اسے عالمی شہرت حاصل ہوگئی تھی۔

الناصر

داعشی کمانڈر ابو سلیمانی الناصر داعش کی عسکری کونسل کا سربراہ اور تنظیم کا کلیدی مہمات کا ذمہ دار ہے۔ اس کے بارے میں بہت کم لوگوں کوعلم ہے۔ داعش کے ماہرین کا کہنا ہے کہ الناصر کا اصل نام نعمان سلیمان منصور الزیدی ہے جو سنہ 2014ء میں داعش کی صف اول میں نمودار ہوا۔

الناصر کی شہریت کے بارے میں مصدقہ اطلاعات نہیں مل سکی ہیں تاہم ممکنہ طورپر اسے شامی شہری ہی بتایا جتا ہے مگر اس کا خاندان مغربی پس منظر بھی رکھتا ہے۔

الناصر نے عراق میں عسکری گروپوں کے ایک مرکز میں جنگی تربیت حاصل کی۔ سنہ 2003ء میں عراق میں امریکا کے ایک فضائی حملے میں بھی وہ معمولی زخمی ہوچکا ہے۔ دولت اسلامیہ عراق نے اسے سنہ 2010ء میں "وزیر دفاع" کا عہدہ سونپا۔

کہا جاتا ہے کہ عراق میں امریکا کے زیرانتظام "بوکا" نامی ایک جیل میں بھی الناصر کو حراست میں رکھا گیا تھا۔ اسی جیل میں تنظیم کے سربراہ ابو بکر البغدادی بھی قید رہا۔