.

دیوار بُراق کو حرم قدسی کا حصہ قرار دینے کی قرارداد پیش

عرب قرارداد پر یونیسکو کا اظہار افسوس، اسرائیل سیخ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے تعلیم اور سائنس وثقافت"یونیسکو" میں عرب ممالک کے نمائندہ گروپ نے متفقہ طورپر قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں مسجد اقصیٰ میں "دیوار براق"[یہود کےہاں دیوار گریہ] کو حرم قدسی کا جزو لا ینفک قرار دیا گیا ہے۔

عرب ممالک کی قرارداد پر یونیسکو کی انتظامیہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے جب کہ صہیونی ریاست نے حسب معمول سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

الحدث ٹی ونے اقوام متحدہ کے سفارتی ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ "یونیسکو" دیوار براق سے متعلق قرارداد الجزائر، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، کویت، مراکش، اور تیونس کی جانب سے پیش کی گئی۔ توقع ہے کہ جلد ہی مسودہ قرارداد پر یونیسکو میں رائے شماری کی جائے گی اور تنظیم کے کل 58 رکن ممالک قرارداد پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔

درایں اثناء "یونیسکو" کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کی خاتون ڈٓائریکٹر نے 'یونیسکو' کی ایگزیکٹو کونسل میں پیش کی گئی حالیہ تجاویز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے 'تشدد گریز' اقدامات پر زور دیا ہے۔ ادارے کی خاتون سربراہ کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹو کونسل کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جو مزید تشویش کا موجب بنیں بلکہ ان اقدامات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جن کے نتیجے میں مقدس مقات کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد دی جا سکتی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے "یونیسکو" میں پیش کی گئی قرارداد پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسرائیل کی نائب وزیرخارجہ زیپی ہوٹوفیلی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عرب ممالک کا "یونیسکو" میں "دیوار گریہ" سے متعلق قرارداد پیش کرنا دھوکا اور تاریخ کو از سر نو مرتب کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے یونیسکو میں پیش کی گئی قرارداد کے پس پردہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ان پر یاسر عرفات کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کا الزام عاید کیا۔

صہیونی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تل ابیب، یونیسکو میں اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کی اس'سازش' کو ہر صورت میں ناکام بنائے گا۔

خیال رہے کہ حرم قدسی کی مغرب جانب واقع مراکشی دروازے سے متصل 50 میٹر طویل اور 40 میٹر اونچی دیوار کو مسلمانوں اور یہودیوں دونوں مذاہب کے پیروکاروں کے ہاں مقدس مقام کا درجہ حاصل ہے۔ مسلمان اسے دیوار براق کا نام دیتے اور مسجد اقصیٰ کا حصہ قرار دیتے ہیں۔