مصری بحریہ کی فائرنگ سے فلسطینی مچھیرا جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصری بحریہ کی ایک گشتی جنگی کشتی سے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع ساحلی سرحدی علاقے میں فائرنگ سے ایک فلسطینی مچھیرا جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

غزہ میں حماس کی حکومت کے تحت وزارت صحت کے ترجمان اشرف قدرہ نے جمعہ کو ایک بیان میں مقتول کی شناخت فارس مقداد کے نام سے کی ہے۔اس کی عمر اٹھارہ سال تھی۔غزہ کی وزارت داخلہ نے فائرنگ کے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ہم مصری فوج کی جانب سے فائرنگ کی مذمت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی کی جان چلی گئی ہے۔ہمارا مصری فوج سے مطالبہ ہے کہ وہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کرے تاکہ اس بات کا پتا چل سکے کہ اس جرم کا کس نے ارتکاب کیا تھا۔

مصری فورسز نے قبل ازیں بھی غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں پر فائرنگ کی تھی اور ان پر مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان واقع بحری حدود کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی طرح مصر نے بھی فلسطینیوں کی بحری اور زمینی ناکا بندی کررکھی ہے اور اس نے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع سرحدی گذرگاہ رفح کو بھی بند کررکھا ہے اور اس کو کبھی کبھار ہی خاص مواقع پر فلسطینیوں کی آمد ورفت کے لیے کھولا جاتا ہے۔

مصری سکیورٹی فورسز جولائی 2013ء میں پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سیناء میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں اور انھوں نے غزہ اور مصری علاقے کے درمیان بیسیوں زیر زمین سرنگوں کو بھی مسمار کردیا ہے۔غزہ میں محصور فلسطینی ان سرنگوں کے ذریعے اشیائے ضروریہ اپنے علاقے میں پہنچاتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں