.

سعودی فورسز نے حوثی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی

جوابی کارروائی میں 30 حوثی باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی بارڈر فورسز نے یمن سے متصل سرحدی قصبے الربوعہ سے ایران نواز حوثی باغیوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے جوابی کارروائی میں کم سے کم 30 باغیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی جوائنٹ فورسز نے دو روز پیشتر بھی اسی قصبے سے یمنی باغیوں کی دراندازی کی ایک کوشش ناکام بناتے ہوئے کم سے کم 40 باغیوں کو ہلاک کیا تھا۔

سرحدی قصبہ الربوعہ ماضی میں یمنی باغیوں کے حملوں سے محفوظ رہا ہے مگر حال کچھ عرصے سے حوثی باغی اس علاقے سے جنوبی قصوبوں نجران اور ظہران کی طرح سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔

الربوعہ قصبہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان سرحدی پٹی پر واقع ہے جہاں سعودی عرب کی جانب اس قصبے کی آبادی 15 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف "فیصلہ کن طوفان" آپریشن شروع کرنے سے قبل الربوعہ کی آبادی کو بھی حفاظتی تدابیر کے تحت وہاں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ قصبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حوثی سعودی عرب میں دراندازی کے لیے اسے ایک نئے راستے کے طور پر استعمال کرنے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں۔

الربوعہ قصہ کے آس پاس کئی پہاڑی سلسلے ہیں جن میں سہوہ، النعیراء، الحجاج، مصیدہ، جبل نویب خاص طور پر مشہور ہیں۔ یمنی باغی انہی پہاڑی دروں سے چھپتے چھپاتے سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔