.

اخوان المسلمون پر انتہا پسندوں کی سہولت کار ہونے کا الزام

جماعت نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا بیان مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں حال ہی میں سامنے والی ایک رپورٹ میں عرب دنیا کی قدیم منظم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اخوان کا تعلق انتہا پسند گرپوں سے جوڑ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ انتہا پسندوں کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر میں کالعدم قرار دی گئی اخوان المسلمون پر الزام ہے کہ وہ ایک طرف سیاست میں حصہ لینے کی کوشش کرتی رہی ہے اور دوسری جانب انتہا پسندوں کے لیے سہولت کار ثابت ہوئی۔ جماعت کی اس پالیسی سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ اخوان المسلمون انتہا پسندی کی طرف میلان رکھتی ہے۔

اخوان المسلمون کے ترجمان محمد منتصر نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ان بیانات کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے الزام عاید کیا تھا کہ اخوان المسلمون بعض مواقع پر انتہا پسندوں کو محفوظ راستے دیتی رہی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے جماعت پر انتہاپسندی کے الزامات قطعی ناقابل قبول ہیں۔ یہ الزامات جماعت کے خلاف ایک منظم سیاسی مہم جوئی کا حصہ ہیں۔ان کا مقصد اخوان المسلمون کو دیوار سے لگانا ہے۔ اگر برطانوی حکومت کے خیال میں پرامن مظاہرے انتہا پسندی ہیں تو اس سے برطانوی حکام کی دماغی حالت پر شک ہوتا ہے۔ انہیں اپنا علاج کرانا چاہیے۔

خیال رہے کہ ایک سال قبل اپریل 2014ء میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت نے اخوان المسلمون کے بارے میں اس امر کی تحقیقات شروع کی تھی کہ آیا وہ برطانیہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تو نہیں۔

اخوان المسلمون سے متعلق اس رپورٹ میں وزیراعظم کا ایک بیان بھی شامل ہے جس میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ اور بیرون ملک اخوان المسلمون کی سرگرمیوں، جماعت کے ارکان اور اس کے حامیوں کے بارے میں باریک بینی سے چھان بین کی جائے گی کہ آیا ان کا انتہا پسندوں سے کوئی تعلق تو نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اخوان المسلمون کے انتہا پسندوں کے ساتھ مشکوک روابط کا پتا چلا ہے۔ ایسے کئی عناصر جو بعد میں تکفیری گروپوں شامل ہوئے، انھیں اخوان المسلمون کی جانب سے محفوظ راستہ مہیا کیا گیا تھا۔