شامی فوج کا اللاذقیہ میں ایک اور قصبے پر کنٹرول

روسی افسروں کے زیرنگرانی اسدی فوج کی باغیوں کے خلاف فاتحانہ پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے ساحلی صوبے اللاذقیہ میں واقع باغیوں کے زیر قبضے قصبے الربيعة پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ مسلح افواج نے عوامی دفاع (ملیشیا) کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑائی کے بعد الربيعة پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

اس قصبے پر 2012ء سے باغی گروپوں نے قبضہ کر رکھا تھا اور اس پر گذشتہ مہینوں کے دوران ترکمن ملیشیا اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کا مختلف اوقات میں کنٹرول رہا تھا۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ گذشتہ اڑتالیس گھنٹے سے شامی فوج نے تین اطراف۔۔۔جنوب ،مغرب اور شمال۔۔۔۔۔۔ سے الربيعة کا محاصرہ کررکھا تھا اور اس نے اس کے نواح میں واقع بیس دیہات پر قبضہ کر لیا تھا۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے صحافیوں کو اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی فوج کے عہدے دار الربيعة میں شامی فوج کی باغیوں کے خلاف لڑائی کی نگرانی کررہے تھے اور اس قصبے پر قبضے کی لڑائی میں روس کے باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ شامی فوج اتوار کو الربيعة پر قبضے کے بعد اب شمال میں ترکی کی سرحد کی جانب واقع باغیوں کو کمک پہنچانے کے لیے استعمال ہونے والے راستوں کو بند کر رہی ہے۔

الربيعة پر قبضے سے قبل شامی فوج نے 12 جنوری کو تزویراتی اہمیت کے حامل قصبے سلمہ کا کنٹرول بھی دوبارہ حاصل کر لیا تھا۔اس قصبے پر بھی باغیوں نے 2012ء سے قبضہ کررکھا تھا اور شامی فوج باغیوں کے ساتھ مسلسل لڑائی کے باوجود اس کا کنٹرول واپس نہیں لے سکی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں