.

جنگ زدہ شام میں پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان

بشار الاسد کے اعلان کے مطابق انتخابات اپریل میں ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشار الاسد نے ملک میں پارلیمانی انتخابات اپریل میں کرانے کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ برس دسمبر میں منظور کی جانے والی یو این قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پانچ سال سے جاری شامی بحران کے خاتمے کے لئے ملک میں اٹھارہ ماہ کی عبوری مدت کے دوران پارلیمانی اور صدارتی انتخاب کرایا جائے۔ تاہم شام میں صرف پارلیمانی انتخابات کا اعلان سامنے آیا ہے کیونکہ موجودہ پارلیمنٹ کی مدت مئی میں ختم ہو رہی ہے۔ پیر کے روز ایک صدارتی فرمان کے ذریعے شامی صدر بشار الاسد نے اعلان کیا کہ شام میں پارلیمانی انتخابات 13 اپریل کو منعقد کرائے جائیں گے۔ یہ انتخاب ہر چار برس مکمل ہونے پر کرائے جاتے ہیں۔

شام میں پارلیمانی انتخاب کرانے کا اعلان روس اور امریکا کی جانب سے عارضی فائر بندی پر اتفاق کے اعلان سے چند گھنٹوں بعد ہی سامنے آیا۔ فائر بندی سے متعلق اہم امور طے نہیں کئے گئے ہیں۔

درایں اثنا شامی بحران کے حل کی خاطر قائم اعلی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان ریاض نعسان نے 'العربیہ' نیوز چینل کو بتایا کہ جنگ میں گھرے ملک میں پارلیمانی انتخاب کا اعلان کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔ ریاض نعسان کے بقول بشار الاسد کی جانب سے پارلیمانی انتخاب کا اعلان لوگوں کو مصروف رکھنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کے اعلان سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بشار الاسد سیز فائر یا مذاکرات میں سنجیدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات جون میں ہونے چاہِیں جبکہ اسی مدت کے اندر شامی بحران کے حل کی خاطر مذاکرات کے اجلاس ہونا قرار پائے ہیں۔