بشارالاسد کی رخصتی ہی سے شام کی جنگ ختم ہوگی:اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ شام میں جاری جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک بشارالاسد اقتدار پر قابض ہیں۔ انہوں نے پیش آئند انتخابات میں صدر بشارالاسد کی شمولیت کے امکانات کو نظرانداز کر دیا اور کہا کہ بشارالاسد مسئلے کے حل کا حصہ نہیں بلکہ خود مسئلہ ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی صدر نے بشارالاسد کے بارے میں یہ بیان اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے ملاقات سے چند روز بعد جاری کیا ہے۔ ولادی میر پوتن بشارالاسد کے دیرینہ حلیف ہیں اور ان کا اقتدار بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ "میں نہیں سمجھتا کہ شام میں بشارالاسد اقتدار پر قابض رہیں اور وہاں پر جاری خانہ جنگی ختم ہو جائے"۔ انہوں نے کہا کہ شام کے بحران کے حل کے لیے سیاسی سمجھوتے کے نتیجے میں "داعش" کے خلاف جنگ کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے شام اور روس کی جانب سے شامی حکومت کی اندھی حمایت اور مدد کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ تہران اور ماسکو اس بات کا تعین کریں کہ آیا انہوں نے عوام کے قاتل بشارالاسد کی حمایت کرنی ہے یا شام کا ملک بچانا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق شام کے بحران سے متعلق روس اور ایران کے موقف میں اختلافات بھی موجود ہیں۔ روسی حکومت کی جانب سے کھل کر بشارالاسد کے اقتدارکی بقاء کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا مگر اس کے مقابلے میں ایران کھلی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بشارالاسد کو بچانے کی بات کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں