.

یمن میں حزب اللہ اور ایران کے جنگجو مارے گئے، سعودی مشیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر دفاع کے فوجی مشیر بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے باور کرایا ہے کہ سعودی حکام کے پاس "طویل عرصے سے اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ حزب اللہ کے ارکان اجرت پر حوثیوں کو تربیت دینے میں مصروف ہیں"۔

الحدث نیوز چینل سے ٹیلیفونک گفتگو میں عسیری نے واضح کیا کہ "حوثیوں کے لیے حزب اللہ کی سپورٹ کے بارے میں ہمارے پاس ریکارڈنگز اور انٹیلجنس معلومات ہیں"۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ "ملیشیاؤں کی صعدہ سے دماج منتقلی حزب اللہ کی نگرانی میں پانی کے ٹینکروں کے ذریعے عمل میں آئی"۔

عسیری نے "یمن میں اجرت پر لڑنے والے حزب اللہ اور ایران کے جنگجوؤں کی ہلاکتوں" کے بارے میں بھی بات کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ "حزب اللہ کسی ترقیاتی یا تعلیمی منصوبے کے تحت یمن نہیں آئی ہے... حزب اللہ ملیشیا اور حوثیوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 کی کھلی خلاف ورزی کی ہے.. حوثی جنگجو اور حزب اللہ کی ٹولیاں سعودی عرب کے خلاف لڑائی میں بچوں تک کو جھونک رہے ہیں"۔

اسی سیاق میں سعودی وزیردفاع کے فوجی مشیر کا کہنا تھا کہ " لبنانی حکومت کو چاہیے کہ وہ حزب اللہ کو اپنے تنخواہ دار جنگجو بیرون ملک بھیجنے سے روکے"۔ ان کے خیال میں "حزب اللہ کے خلاف کڑا اقدام کرنا چاہیے جو اپنے اجرتی ارکان کو شام اور یمن بھیج رہی ہے"۔