شام میں داعش کے ہاتھوں 8 ولندیزی ''منحرفین'' قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے شام میں اپنے آٹھ ولندیزی ارکان کو منحرف ہونے کے شُبے میں قتل کردیا ہے۔

شام کے صوبے الرقہ سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن ابو محمد نے اطلاع دی ہے کہ ''داعش نے معدن میں اپنے آٹھ ولندیزی جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔داعش نے ان پر منحرف ہونے اور بغاوت کی کوشش کا الزام عاید کیا ہے''۔

شہری صحافی گروپ''الرقہ خاموشی سے تہ تیغ ہو رہا ہے''(آر بی ایس ایس) سے وابستہ اس کارکن نے بتایا ہے کہ ''الرقہ میں گذشتہ ماہ سے پچھہتر ولندیزی جنگجوؤں اور داعش کے عراق سے تعلق رکھنے والے انٹیلی جنس اہلکاروں کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے۔ان ولندیزی جنگجوؤں میں مراکشی نژاد جنگجو بھی شامل ہیں''۔

آر بی ایس ایس کے مطابق داعش کے عراقی ارکان نے تین ولندیزی انتہا پسندوں کو گرفتار کر لیا تھا اور ان پر راہ فرار اختیار کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔ان میں سے ایک دوران تفتیش کیے گئے تشدد کی تاب نہ لا کر چل بسا تھا۔

الرقہ میں داعش کے لیڈروں نے ڈچ سیل کے ناراض ارکان کے پاس ایک وفد بھیجا تھا لیکن انھوں نے انتقام میں ثالث کاروں ہی کو قتل کردیا تھا۔اس کے بعد عراق میں موجود داعش کی قیادت نے ڈچ گروپ کے تمام ارکان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا اور پھر انھیں طبقہ اور معدن میں جیل میں قید کردیا گیا تھا۔اس کے بعد ان میں سے آٹھ کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی ہے۔تاہم اس کا کہنا ہے کہ شمالی افریقا نژاد تین یورپی جہادیوں کو شام اور عراق کے درمیان سرحد پر واقع علاقے ولایت الفرات میں ہلاک کردیا گیا ہے۔

نیدر لینڈز کے خفیہ اداروں کے مطابق اس وقت پچاس خواتین سمیت قریباً دو سو ولندیزی شام اور عراق میں داعش میں شامل ہو کر لڑرہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں