.

عراق میں شیعہ مزاروں کا تحفظ .. القاعدہ سے ایرانی مطالبے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ القاعدہ تنظیم کے بانی اور سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی زبانی القاعدہ اور ایران کے درمیان لاجسٹک سپورٹ کے تانے بانے کے دستاویزی ثبوت منظرعام پر آئے ہیں.. جو کئی سال تک تہران کو صرف "مالی رقوم، افراد اور خط و کتابت" کے لیے مرکزی گزر گاہ شمار کیے جانے تک محدود نہیں رہی۔

امریکا کی جانب سے حال ہی میں منظرعام پر لائی جانے والی.. القاعدہ تنظیم کے سربراہ کے خطوط و رسائل کی دوسری کھیپ میں شامل دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی جانب سے یہ خدمات بلا معاوضہ (مفت) نہیں تھیں بلکہ ان کے عوض شیعہ مزارات کے لیے القاعدہ کی خدمات حاصل کی گئیں۔

یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایران اور القاعدہ نے اپنے نظریاتی اختلاف کو ایک جانب کردیا۔

القاعدہ تنظیم کے ایک رہ نما کے ہاتھ سے لکھے ہوئے خط میں توفیق نامی شخص کو مخاطب کرتے ہوئے بولا گیا کہ " ایرانی (حکام) "العمدہ" (اسامہ بن لادن کے لیے استعمال ہونے والا خفیہ کلمہ) کی جانب سے کسی شخصیت کے ساتھ کام کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے لیے اولین اہمیت عراق کی صورت حال ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں پر ہمارے برادران خاص طور پر الازرق (اس سے مراد ابو مصعب الزرقاوی ہے) اور اس کے گروپ کا شیعوں کے مقدس مقامات پر حملوں میں عمل دخل ہے۔ اس لیے یہ لوگ "العمدہ" کے کسی نمائندے سے ملاقات کے خواہش مند ہیں تاکہ اس معاملے کو اور ممکنہ تعاون کو زیربحث لایا جائے۔ درمیان میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے برادر کے مطابق یہ لوگ بعض نکات کے تصفیے کی صورت میں کسی قسم کی سپورٹ اور معاونت بھی پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ کم از کم العمدہ کی جانب سے وضاحتی تحریر چاہتے ہیں جس میں اس بات کی تصدیق ہو کہ شیعوں کے مقدس مقامات (ہمارے) برادران کا نشانہ نہیں ہیں اور آئندہ بھی ان کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا"۔

خط ارسال کرنے والے کے اندازوں کے مطابق ایرانیوں کو اپنے حامیوں کے ذریعے یا براہ راست صورت میں عراق کے اندر کسی بھی کردار کو ادا کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ سے وہ مجبور ہوگئے کہ "وہ تعاون کی امید کریں تاہم بعض وضاحتوں اور اطمینان کے حصول کے بعد جب کہ وہ کسی نمائندے سے بھی ملاقات چاہتے ہیں تاکہ بہت سے امور کو تفصیلات کے ساتھ اور جامع انداز سے زیربحث لایا جاسکے"۔

دستاویزات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایرانیوں نے القاعدہ کے ارکان اور ان کے اہل خانہ کو قیدی بنا کر تنظیم پر دباؤ ڈالنے کی بھی کوشش کی۔ جواب میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے اس خط میں کسیلا پن صاف واضح تھا جو انہوں نے ایرانی ذمہ داران کے نام لکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ

"اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران اور اس کے بیرون میں عقل و دانش رکھنے والے اس مصلحت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس کے تحت اہل سنت مجاہدین، مہاجرین اور ان کے بچوں کو یہ ایذا جارہی ہے.. بہرحال ہمارے تمام قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے تاکہ وہ جہاں کہیں سے آئے تھے وہاں پر واپس لوٹ جائیں"۔

اسامہ بن لادن نے خط میں اپنے اہل خانہ میں سے متعدد افراد کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا جن میں ان کا بیٹا سعد اس کے اہل خانہ، اور سعد کے بہن بھائی شامل تھے۔ انہوں نے لکھا کہ "کئی برسوں سے ہمیں ان کی کوئی خبر نہیں ملی"۔ ان کے علاوہ اسامہ کے بیٹے محمد، حمزہ اور لادن ان کی بہنیں اور خالہ بھی شامل تھیں۔ مزید برآں محمد اسلامبولی جو اس وقت تہران میں موجود ہے اور اس کی اہلیہ جو وہاں وفات پاچکی ہے اور القاعدہ کے دیگر کئی بڑے رہ نما جن میں سلیمان الغیث اور اس کی اہلیہ فاطمہ اور ایک اہم رہ نما عبدالحکیم افغانی عرف "ہارون"... جس نے القاعدہ کے سربراہ کو ایک خط میں 1429 ہجری میں ایران کے شہر مشہد سے نکلنے میں کامیاب ہوجانے کی خبر دی تھی۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس طرح ایران القاعدہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے پتوں کو استعمال کررہا تھا اور اپنے سیاسی مقاصد کے لیے خدمات لے رہا تھا جس میں عراق میں تنظیم کے ذریعے امریکیوں کو پریشان کرنا شامل تھا... اسی طرح القاعدہ اور اس کے سربراہ کے پاس دیگر پتے تھے جن میں ایرانی یرغمالیوں کی رہائی اور ان کو حملوں سے دور رکھنے کے لیے مذاکرات اہم ترین چیز تھی۔

جیسا کہ اسامہ بن لادن کے ایک خط میں تحریر ہے کہ "جہاں تک رافضیوں پر حملوں کا سوال ہے تو اس سلسلے میں... میرے اور برادران کے درمیان مشاورت ہورہی ہے۔ اور اس حوالے سے میرا موقف اس مشاورت کا نتیجہ ہے نا کہ کسی فرد کا موقف۔ اس مسئلے پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔ اس معاملے کو ہم نے ان سے یرغمالی حاصل کرنے سے نتھی کردیا ہے جس کے بعد ہمارے آپشن زیادہ وسیع ہوجائیں گے... اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے اور بار بار ہورہی ہے"۔

اس سے قبل "مکارم" نامی شخص کو لکھے گئے خط میں اسامہ بن لادن نے القاعدہ کے بعض رہ نماؤں کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کی دھمکی کی مذمت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ "تم لوگوں نے اس خطرناک معاملے میں ہم سے مشاورت نہیں کی جس سے سب کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ ہم ان بڑے مسائل میں مشورے کی توقع کررہے تھے۔ تم جانتے ہو کہ ایران مالی رقوم، افراد اور خط و کتابت کے لحاظ سے ہمارے لیے مرکزی گزرگاہ ہے اور اسی طرح قیدیوں کا مسئلہ... مجھے نہیں معلوم کہ تم لوگوں نے دھمکی کا اعلان کیوں کیا"۔