.

امل کلونی کی تقریر میں مشرق وسطیٰ میں انسانی حقوق کا تذکرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی شہرت یافتہ وکیل،انسانی حقوق کی علمبردار اور ہالی ووڈ کے معروف اسٹار جارج کلونی کی اہلیہ امل کلونی نے کہا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں کو انسانی حقوق کے معاملے میں بلند آہنگ ،مستقل مزاج ،اصول پسند اور شفاف ہونا چاہیے۔

وہ متحدہ عرب امارات میں حکومت کی ابلاغیات کے موضوع پر ایک کانفرنس میں کلیدی مقرر کی حیثیت سے خطاب کررہی تھیں۔تقریب میں شارجہ کے حکمران شیخ سلطان بن محمد آل قاسمی کے علاوہ دوسرے سرکردہ عہدے دار بھی موجود تھے۔

انھوں نے کہا:''تجربے کی روشنی میں میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ حکومتوں کو انسانی حقوق کے بارے میں دوٹوک لب ولہجہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے''۔

امل کلونی نے مزید کہا:''عرب ممالک کو انسانی حقوق کے ایک بے مثل اور بڑے بحران کا سامنا ہے''۔انھوں نے اس بات پر زوردیا ہے کہ ''حکمرانی کے نظام پر تنقید کا ڈائیلاگ کے ذریعے مقابلہ کیا جانا چاہیے،نہ کہ مخالفین کو جیل میں ڈال دیا جائے۔احتجاجی مظاہرین پر گولی چلانے کے بجائے انھیں کنٹرول کیا جانا چاہیے''۔

ان کا کہنا تھا۔میری یہ بھی نصیحت ہے کہ ''آپ کو انسانی حقوق کے معاملے میں مستقل مزاج ہونے کے علاوہ ابلاغیات میں اصولی ہونا چاہیے۔حکومتیں شفاف ہوں اور ان کے پیغام کا فوری طور پر ابلاغ ہونا چاہیے''۔انھوں نے اپنی بارہ منٹ کی تقریر میں سوڈان ،ایران اور شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا ہے۔

لبنانی نژاد برطانوی وکیل امل علم الدین نے اپنے خاوند جارج کلونی کے ہمراہ گذشتہ ماہ جرمن چانسلر اینجیلا میرکل سے ملاقات کی تھی اور ان سے شامی مہاجرین کی یورپ آمد سے پیدا ہونے والے بحران کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔انھوں نے برلن میں شامی مہاجرین سے بھی ملاقات کی تھی۔

امل کلونی متعدد اہم عالمی کیسوں میں وکالت کرچکی ہیں۔گذشتہ مہینوں کے دوران انھوں نے مصری نژاد کینیڈین صحافی محمد فہمی کی وکالت کی تھی۔فہمی کو ایک سال سے زیادہ عرصہ مصر میں جیل میں گزارنا پڑا تھا اور وہ صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے معافی ملنے کے بعد رہا ہوئے تھے۔

وہ آرمینیا میں 1915ء میں ہوئے قتل عام کو نسل کشی قرار دلوانے کے لیے کوشاں قانونی ٹیم کی بھی رکن ہیں۔مؤرخین کے اندازے کے مطابق پہلی عالمی جنگ کے دوران عثمانی ترک فوج کے ہاتھوں پندرہ لاکھ آرمینیائی باشندے ہلاک ہوئے تھے۔ ترکی اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کا کہنا ہے کہ صرف پانچ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس تعداد میں قحط اور خانہ جنگی سے مرنے والے بھی شامل تھے۔