خلیجی صارفین کی 73 ٪ اشیاء کا ُگزر شاہ سلمان پُل سے ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بین الاقوامی تجارت کے ایک ماہر ڈاکٹر فواز العملی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور مصر کی درمیان جن معاہدوں پر دستخط کیے گئے ان میں مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ، سیناء میں آزادانہ تجارت کا خطہ اور دونوں ملکوں کے درمیان خشکی کے راستے پل کی تعمیر اہم ترین منصوبے ہیں۔ یہ بات انہوں نے "العربیہ" نیوز چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔

ڈاکٹر العلمی کے مطابق "شاہ سلمان کے دورہ مصر میں گزشتہ 3 روز کے دوران ہونے والی پیش رفت سے دونوں ملکوں کے عوام کے کلیجے ٹھنڈے ہوگئے ہیں۔ اس لیے کہ جو کچھ یقینی بنایا گیا ہے وہ چوتھائی صدی کے دوران عرب ممالک کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کے نتائج سے بھی کہیں زیادہ ہے"۔

العلمی کا کہنا ہے کہ خشکی کے راستے پل کے ذریعے دونوں ملکوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ بالخصوص اس لیے کہ یہ دونوں ممالک دنیا کی 3 اہم ترین سمندری گزرگاہوں کے ساتھ پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ گزرگاہیں آبنائے ہرمز، آبنائے باب المندب اور نہر سوئز ہیں۔ مذکورہ پل کی لمبائی 10 کلومیٹر ہوگی اور اس پر 4 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ 7 برس کے عرصے میں تیار ہونے والا یہ پل پانی کے اوپر معلق تین پلوں پر مشتمل ہوگا۔ اس کے نتیجے میں 5 سے 7 سالوں کے دوران دونوں براعظموں (ایشیا اور افریقہ) کے درمیان درآمدات اور برآمدات کا حجم 200 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ معتمرین (عازمین عمرہ) کی تعداد میں نمایاں طور اضافہ ہوگا۔ سعودی عرب اور دیگر پڑوسی ممالک سے زائرین اس پل کے ذریعے سہولت کے ساتھ زیادہ بڑی تعداد میں مصر جاسکیں گے۔

العلمی نے واضح کیا کہ شاہ سلمان پل کی بدولت قاہرہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان سفر صرف 10 گھنٹے کا ہوجائے گا۔ العلمی کے مطابق "خلیجی ممالک اپنی ضرورت کی اشیاء کا 73 ٪ یورپ سے درآمد کرتے ہیں۔ لہذا یہ مصنوعات یورپ سے مصر جائیں گی اور پھر خشکی کے اس پل کے ذریعے خلیج کی تمام تر منڈیوں تک رسائی حاصل کریں گی"۔

ڈاکٹر فواز العلمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ "سیناء میں آزادانہ تجارت کا خطہ بننے سے یورپی ممالک اور چین اپنے کارخانوں کو جلد سیناء منتقل کرنے کا سوچیں گے اور پھر وہاں سے عرب ممالک کو برآمدات بھیجی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں