.

اردن : عمان میں اخوان المسلمون کے صدر دفاتر سر بہ مہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں پولیس نے دارالحکومت عمان میں اخوان المسلمون کے صدر دفاتر سر بہ مہر کردیے ہیں۔اخوان کے ایک سینیر عہدے دار کے بہ قول حکام نے ان کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کردیا ہے۔

اخوان کے سینیر رکن جمیل ابوبکر نے بتایا ہے کہ پولیس نے عمان کے گورنر کے احکام پر عمل درآمد کرتے ہوئے عملے کو دفاتر سے باہر نکال کردیا اور عمارت کی تالا بندی کردی ہے۔

حکومت کے ترجمان یا پولیس نے اس کارروائی کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ اخوان المسلمون اردن میں قانونی طور پر عشروں سے کام کررہی ہے اور اس کو شہری علاقوں میں نچلی سطح تک عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

جمیل ابوبکر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم کوئی باغی گروپ ہیں اور نہ قانون سے باہر رہ کر کام کررہے ہیں۔ہمارے ساتھ معاملہ کاری کا یہ کوئی مناسب طریقہ نہیں ہے اور کسی مفاہمت کے بجائے ہمارے خلاف سخت سکیورٹی اقدامات کیے جارہے ہیں''۔

اخوان کا سیاسی بازو اسلامی محاذ عمل (ایکشن فرنٹ) اردن میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہے اور یہ فلسطینی نژاد اردنیوں کی بھی نمائندہ سمجھی جاتی ہے۔فلسطینی اردن کی کل ستر لاکھ آبادی میں اکثریت کے حامل ہیں۔تاہم اردن کے متنازعہ قانون کے تحت ان کی پارلیمان میں زیادہ نمائندگی نہیں ہے اور بیشتر منتخب نمائندے مقامی اردنی ہی ہوتے ہیں۔

اردن کے بڑے شہروں میں مقیم اخوان المسلمون کے غریب فلسطینی حامیوں کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔اخوان المسلمون نظریاتی طور پر مصر کی اپنی ہم نام جماعت اور غزہ کی پٹی کی حکمراں حماس کے نزدیک ہے۔وہ اردن میں سیاسی اصلاحات چاہتی ہے۔تاہم اس نے بادشاہت کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔

اخوان المسلمون ہی کو اردن میں حزب اختلاف کی توانا آواز سمجھا جاتا ہے مگر حکام نے عرب بہار کے دوران ملک میں جمہوریت کے حق میں مظاہروں کو سختی سے کچل دیا تھا اور حکومت مخالفین کو گرفتار کرکے پس دیوار زنداں کردیا تھا۔

خطے کے دوسرے ممالک میں اسلامی سیاسی جماعتوں کے وابستگان کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں اردن نے بھی گذشتہ دو سال سے اخوان المسلمون کے خلاف سخت قدغنیں لگا رکھی ہیں۔اس پر عوامی اجتماعات منعقد کرنے پر پابندی عاید ہے اور حکومت کے سخت ناقدین کو فوری گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔

اردن میں تو اخوان کے خلاف پکڑ دھکڑ تک ہی کارروائیاں محدود ہیں جبکہ خلیجی عرب ممالک اور مصر میں اخوان المسلمون اور دوسرے اسلامی گروپوں کو کالعدم قرار دیا جاچکا ہے۔ان کے ہزاروں کارکنان کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے اور مصر میں اخوان کی اعلیٰ و ادنیٰ قیادت سمیت ہزاروں متعلقین کو اجتماعی طور پر موت اور لمبی مدت کی قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔