.

عراق : سماوا میں خودکش بم دھماکے، 32 ہلاک ،75 زخمی

داعش نے عراقی فورسز پر خودکش کار بم حملوں کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی شہر سماوا میں دو خود کش کار بم دھماکوں کے نتیجے میں 32 افراد ہلاک اور 75 زخمی ہو گئے ہیں۔سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

عراقی پولیس کے مطابق بغداد سے 230 کلومیٹر جنوب میں واقع سماوا کے وسط میں پہلا کار بم دھماکا مقامی حکومت کی ایک عمارت کے نزدیک ہوا ہے اور دوسرا وہاں سے 60 میٹر کے فاصلے پر واقع ایک بس اسٹیشن پر ہوا ہے۔ان دونوں بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشے ہے۔

آن لائن جاری کردہ غیر مصدقہ تصاویر میں ایک بم دھماکے کی جگہ سے عمارتوں سے دھواں بلند ہو رہا ہے ،کاریں جل رہی ہیں اور زمین پر مرنے والوں کی لاشیں پڑی ہیں جبکہ پولیس اہلکار اور آگ بجھانے والا عملہ زخمیوں کو اسٹریچر اور اپنے بازوؤں پر اٹھا اٹھا کر اسپتالوں میں منتقل کررہا ہے۔

داعش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے سماوا میں عراقی اسپیشل فورسز کے ایک اجتماع پر پہلے بارود سے بھری ایک کار سے حملہ کیا ہے۔اس کے بعد جب سکیورٹی فورسز کے اہلکار وہاں امدادی سرگرمیوں کے لیے وہاں پہنچے تو دوسری کار کو بھی بمبار نے دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

داعش کا اس وقت عراق کے سنی اکثریتی شمالی اور شمال مغربی صوبوں پر قبضہ ہے جبکہ شیعہ اکثریتی جنوبی علاقوں میں وہ موجود نہیں ہیں اور ان علاقوں میں وہ شاذ ونادر ہی حملے کرتے ہیں۔ البتہ وہ بغداد اور شمالی یا مغربی شہروں میں اہل تشیع پر اس طرح کے حملے کرتے رہتے ہیں۔

عراقی فورسز اور ان کی اتحادی ملیشیائیں مغربی صوبے الانبار میں الرمادی ،ہیت اور دوسرے قصبوں اور شہروں کو واگزار کرانے کے بعد اب شمالی شہر موصل میں داعش کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی تیاری کررہی ہیں۔داعش الانبار میں اپنی شکست اور پسپائی کا بدلہ چکانے کے لیے اب گاہے گاہے عراقیوں پر خودکش بم حملے کررہے ہیں۔

تاہم اس وقت عراق میں داعش کی پیش قدمی رُک چکی ہے کیونکہ عراقی فورسز ایک جانب ان کے خلاف زمینی کارروائی کررہی ہیں اور دوسری جانب امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے ان پر فضائی حملے کررہے ہیں۔اس فضائی بمباری کے نتیجے میں ان کی آزادانہ نقل وحرکت محدود ہوچکی ہے اور وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں پر ہی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔