.

عالمی برادری شام میں جنگ بندی کی پامالیاں بند کرائے: اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی اپوزیشن نے عالمی برادری سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں صدر بشار الاسد کی وفادار فورسز اور ملیشیا کے ہاتھوں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرانے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔

شامی اپوزیشن کی سپریم کونسل برائے مذاکرات کے جنرل کورآرڈینیٹر ریاض حجاب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی حکومت حلب میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے شہر میں وسیع پیمانے پر جارحیت مسلط کرنے کی سازش کررہی ہے۔ عالمی برادری بشار الاسد اور ان کے وفاداروں کو حلب میں شہریوں کے قتل عام سے سختی سے روکے اورانہیں جنگ بندی معاہدے کا پابند بنائے۔

ریاض حجاب نے الزام عاید کیا کہ شام کے مختلف شہروں بالخصوص حلب میں سرکاری فوج اور روسی اجرتی قاتل جنگ بندی کی کھلے عام خلاف ورزیاں کررہے ہیں۔ حلب میں مسلسل حملے مسئلے کے سیاسی حل کے لیے ہونے والی مساعی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حلب میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ جنگ بندی موجودہ بحران سے نکلنے کا اہم موقع ہے مگر اسدی فوج اس موقعے کو ضائع کرنا چاہتی ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو امریکا اور روس کی جانب سے جاری کردہ اعلانات میں کہا گیا تھا کہ حلب میں متحارب فریقین میں عارضی جنگ بندی طے پائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بشارالاسد بھی حلب میں جنگ بندی پر قائم رہیں گے۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد دو ہفتوں کی وحشیانہ گولہ باری سے متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی معمولی نقل وحرکت بھی دیکھی جا رہی ہے مگر شہری اب بھی خوف زدہ دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اس سے قبل بھی صدر اسد کی طرف سے جنگ بندی سے اتفاق کے باوجود بمباری جاری رہی ہے۔

بدھ اور جمعرات کے روز شامی فوج کی ترکی کی سرحد کے قریب پناہ گزین کیمپ پر بمباری کے نتیجے میں 28 افراد مارے گئے ہیں جن میں بیشتر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

شامی حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حلب میں النصرہ محاذ نے جنگ بندی کی خلاف روزی کی ہے تاہم شامی اپوزیشن کے رہ نما ریاض حجاب نے النصرہ کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزی کی سختی سے تردید کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حلب میں النصرہ فرنٹ کے جنگجو نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لیے یہ کہنا قطعا غلط ہے کہ النصرہ کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ شام میں مارچ سنہ 2011ء کو صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی بغاوت شروع ہوئی جو اس وقت تک جاری ہے۔ چھ سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 70 ہزار افراد ہلاک اور کروڑوں بے گھر ہوچکے ہیں۔