.

حماہ.. کیا بشار الاسد شہر میں اپنے والد کے جرائم کو دُہرائے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے چوتھے بڑے شہر حماہ کی مرکزی جیل میں قیدیوں کی نافرمانی سے ذہنوں میں اس المیے کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جس کا اس شہر نے بشار الاسد کے والد حافظ الاسد کے دور حکمرانی میں سامنا کیا تھا۔

گزشتہ صدی کی اسیّ کی دہائی میں حافظ الاسد کی حکومت نے اپنے دور میں الاخوان المسلمون کے خلاف سب سے بڑے فوجی کریک ڈاؤن میں قتل عام کا ارتکاب کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

شام کے شہری.. الاسد خاندان کا شکار

مذکورہ قتل عام کا آغاز 2 فروری 1982 کو ہوا اور 27 روز تک جاری رہا۔ اس دوران حافظ الاسد نے حماہ شہر کا گھیراؤ کرکے پہلے تو اس پر شدید گولہ باری کی اور پھر شہر پر فوجی دھاوے کے ساتھ خوف ناک قتل عام کا ارتکاب کیا جس میں ہزاروں افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ یہ کارروائی اسی طرح کی گئی تھی جیسا کہ آج حافظ الاسد کے بیٹے اور شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد کے حکم پر شام کے مختلف شہروں میں وحشیانہ کارروائیاں جاری ہیں۔

اس وقت حافظ الاسد کی حکومت نے اپوزیشن پر قابو پانے کے لیے فوج، اسپیشل فورسز اور سیکرٹ سیکورٹی کے یونٹوں کو استعمال کیا اور ان تمام فورسز کو مخالفین یا یہاں تک کہ ان سے ہمدری رکھنے والوں کو بھی نشانہ بنانے کے مکمل اختیارات سونپ دیے۔

اس کے ساتھ ساتھ واقعات اور خبروں کا مکمل بلیک آؤٹ کردیا گیا تاکہ دیگر علاقوں میں عوامی احتجاج اور بیرونی مذمت سے بچا جاسکے۔

اس سیکورٹی آپریشن کے نتیجے میں شام میں انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق اس فوجی آپریشن کے نتیجے میں تقریبا 40 ہزار افراد جاں بحق ہوئے، پورے علاقوں کو ان کے رہائشیوں سمیت صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا جب کہ لاکھوں شہری قتل اور ہراسیت سے بچنے کے لیے ہجرت پر مجبور ہوگئے۔

حافظ الاسد نے گرفتار شدگان کے خلاف تمام وحشیانہ ہتھکنڈے استعمال کیے۔ اس کی فورسز نے اندھادھند گرفتاری کی کارروائیوں میں ہزاروں شہریوں کو بلا امتیاز حراست میں لیا۔ تمام لوگوں کو ملزم ٹھہرایا گیا، زبردستی گرفتار کیا گیا، وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بیشتر حالتوں میں دانستہ طور پر موت کے گھاٹ بھی اتارا گیا۔

شہر میں گرفتاری کی کارروائیوں میں خواتین بھی لپیٹ میں آئیں اور درجنوں خواتین کو حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل بھی کیا گیا۔ ان میں دوران بمباری یا براہ راست فائرنگ میں اپنے گھروں کے اندر جاں بحق ہونے والی خواتین بھی ہیں، شدید اذیت اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد موت کے گھاٹ اتاری جانے والی خواتین بھی ہیں اور ان میں وہ خواتین بھی ہیں جو زخمیوں کی خدمت کے دوران بمباری اور انہدام کی کارروائیوں کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

ماضی دہرایا جا رہا ہے اور باپ سے بیٹے تک جرائم کا سلسلہ جاری

اس وقت بھی حکام نے نامناسب مقامات پر جمع کردیے جانے والے گرفتار افراد کی ایک بڑی تعداد کو کھپانے کے لیے متعدد فوجی اور شہری اداروں کے استعمال کا سہارا لیا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسا کہ آج حماہ کی مرکزی جیل میں ہو رہا ہے۔ اس بار جیل کے قیدیوں نے حکومت کی جانب سے 5 سیاسی اسیران کو صیدنایا کی جیل منتقل کرنے کے مطالبے کو مسترد کردیا۔

وہ ہی صیدنایا جیل جس کے بارے میں شامیوں میں مشہور ہے کہ "اس میں داخل ہوجانے والا لاپتہ ہوجاتا ہے"۔

میڈیا ذرائع کے مطابق حکومتی فورسز نے حماہ کی مرکزی جیل میں قیدیوں کے ساتھ رابطے کا کوئی طریقہ باقی نہیں چھوڑا۔ سیلولر فون سے رابطے منقطع کر دیے گئے اور جیل کا محاصرہ کرنے والی فورسز پوری طرح الرٹ ہیں۔

تاہم حماہ کی جیل کے بحران کے نتیجے میں سامنے آنے والے رد عمل نے حکومت کو ایک بار پھر قیدیوں سے مذاکرات پر مجبور کیا ہے۔ ان قیدیوں کا صرف یہ مطالبہ ہے کہ انہیں موت کے گھاٹ نہ اتارا جائے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومتی جیلوں میں ہزاروں افراد بنا الزام کے گرفتار ہیں اور ان میں سے متعدد گرفتار شدگان کو موت کے منہ میں لے جانے والے وحشیانہ تشدد کا سامنا ہے۔

آج بھی یہ سوال رہتا ہے کہ آیا حماہ کی مرکزی جیل میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے کئی برسوں قبل شہر میں پیش آنے والے المیے کی یاد تازہ ہوگی۔ یہ امر بین الاقوامی تحقیق تقاضہ کرتا ہے جو ماضی بعید سے لے کر اب تک الاسد حکومت کے شرمناک جرائم اور اس کے دور میں شامیوں کو درپیش ظلم و استبداد کو مکمل طور پر بے نقاب کرے.