.

بغداد میں تین کار بم دھماکے، 85 افراد ہلاک

داعش نے صدرسٹی میں خودکش کار بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد کے مختلف علاقوں میں بدھ کے روز تین کار بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں پچاسی افراد ہلاک اور کم سے کم ڈیڑھ سو زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق بغداد کے شمال مغرب میں واقع شیعہ اکثریتی علاقے کاظمیہ کے داخلی دروازے پر ایک کار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں پندرہ افراد ہلاک اور تینتیس زخمی ہوئے ہیں۔

عراقی دارالحکومت کے مغرب میں واقع سنی اکثریتی علاقے میں شاہراہ پر بارود سے بھری ایک اور کار کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے ہیں۔عراقی ذرائع کا کہنا ہے ان دونوں بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

اس سے پہلے شیعہ آبادی والے علاقے صدر سٹی میں ایک تباہ کار بم دھماکا ہوا تھا۔اس میں مرنے والوں کی تعداد تریسٹھ ہوگئی ہے اور اسّی سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق داعش کے خودکش بمبار نے بارود سے بھری ایک ایس یو وی کار کو صدر سٹی میں واقع ایک مصروف بازار میں دھماکے سے اڑایا ہے۔داعش سے وابستہ اعماق نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ خودکش بمبار نے شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا ہے۔داعش کے جنگجو ماضی میں بھی عراق میں شیعہ ملیشیاؤں کو خودکش بم دھماکوں میں نشانہ بناتے رہے ہیں۔

فروری میں صدر سٹی میں دو خودکش بم حملوں میں ستر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ایک روز قبل ہی بغداد کے شمال مشرق میں واقع شہر بعقوبہ میں خودکش بم دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک اور کم سے کم ساٹھ زخمی ہوگئے تھے۔