.

جان کیری کی قاہرہ آمد،صدر السیسی کی امن تجویز پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری مصر کے صدر عبدالفتاح کے مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے مجوزہ منصوبے اور لیبیا کی صورت حال پر بات چیت کے لیے بدھ کو قاہرہ پہنچے ہیں۔

جان کیری نے قبل ازیں ویانا میں شام اور لیبیا میں جاری تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت کی ہے اور کئی ملکوں کے وزرائے خارجہ سے شام میں جنگ بندی میں توسیع اور لیبیا میں داعش کے خلاف جنگ اور قومی اتحاد کی حکومت کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں بات چیت کی ہے۔

ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ جان کیری مصری صدر کی جانب سے منگل کو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان مصالحت کے لیے پیش کردہ تجویز سے متعلق مزید تفصیل جاننا چاہتے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ نے گذشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی لیکن امریکی حکام نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے جنوبی شہر اسیوط میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے ثالثی کی پیش کش کی تھی اور کہا تھا کہ اگر اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ امن بات چیت کی بحالی کے لیے کوششوں کو تسلیم کر لیتا ہے تو اس کے ساتھ گرم جوشی پر مبنی تعلقات استوار کیے جا سکتے ہیں۔

انھوں نے اسرائیلی لیڈروں پر زوردیا کہ وہ خطے میں سکیورٹی کے قیام کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس کو ضائع نہ کریں۔مصری صدر نے فلسطینی دھڑوں کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے لیے بھی مصالحت کی پیش کش کی اور کہا کہ ''اگر ہم فلسطینی بھائیوں کے ایشو کو حل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس سے امن بھی حاصل کرلیں گے''۔

جان کیری مصری صدر سے ویانا میں عالمی طاقتوں کے اجلاس میں لیبیا کے تنازعے کے حل کے لیے زیر بحث آنے والی تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کرنے والے تھے۔اس اجلاس میں امریکا اور دوسرے ممالک نے لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت کے اقوام متحدہ کی جانب سے اسلحہ درآمد کرنے پر عاید پابندی کے خاتمے سے متعلق مطالبے کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ لیبی حکومت کو داعش کو شکست دینے اور ملک پر کنٹرول کے لیے ضروری اسلحہ مہیا کیا جانا چاہیے۔